تازہ ترین
فیض آباد دھرنے کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

فیض آباد دھرنے کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

اسلام آباد:(06 فروری 2019)سپریم کورٹ میں تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کا فیصلہ آج سنایا جائے گا،مذکورہ کیس کا فیصلہ بائیس نومبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنائے گا،عدالت نے فیصلے کے لئے اٹارنی جنرل، آئی جی اسلام آباداورسیکرٹری داخلہ،سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے گذشتہ سال بائیس نومبر کو کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیاتھا۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس میں کہا تھا کہ احتجاج سب کا حق ہے لیکن پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگرایسے احتجاج کی اجازت دی جائے تو کیاشریف لوگ ملک سے ہجرت کرجائیں۔

فیض آباد دھرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سخت ریمارکس

فیض آباد دھرنے کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس میں متعدد بار ریمارکس دے رکھے ہیں، معزز جج کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازم ملک کے حکمران نہیں خادم ہیں،تاریخ پڑھیں کہ پاکستان کس طرح بنایا گیا ، قائداعظمؒ کے اردگرد ایسی لیڈرشپ تھی جو پاکستان بناناچاہتی تھی۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ سیکیورٹی اداروں کی طرف سے دھرنے سے متعلق مزید رپورٹس آئی ہیں مگر رپورٹ کے لئے عدالتی ہدایات نہیں تھیں ، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا دوبارہ رپورٹ نہیں آنی چاہیے تھی ۔ آپ کس طرح ملک چلا رہے ہیں ، پاکستان کیا خوف میں رہنے کیلئے بنایا گیا ہے۔

حساس اداروں کی جانب سے دھرنے سے متعلق پیش کی گئی رپورٹس پر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کس طرح ملک چلا رہے ہیں ، پاکستان کیا خوف میں رہنے کیلئے بنایا گیا ہے۔

معزز جج کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ قانون سے بالاتر ہیں کیا ہم ایک آزاد ملک نہیں چاہتے کسی شہری کی املاک پر آنچ نہیں آنی چاہئے ، فاضل جج کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ معزز چیف جسٹس کو گالیاں دی جاتی ہیں مگر کسی کو پرواہ نہیں ،کیا جج کو ٹارگٹ کرنا پاکستان میں جائز ہے، جو گاڑیاں جلائیں، عوام پر تشدد کریں ، راستے بند کریں ان پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔

دوران سماعت معزز جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ عشق والوں نے غلیظ زبان استعمال کی ، یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں، یہ اسلام کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کہ لوگ اسلام سے نفرت کریں ۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ میں سیکیورٹی اداروں کو ان کے پس منظر اور ذرائع آمدن کا پتہ نہیں ، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ میں فنڈز کے بارے میں معلومات موجود ہیں،ان لوگوں نے چندہ اکٹھا کیا، پینتیس ہزار لوگوں نے دھرنا قائدین کو چندہ دیا، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ کیوں فرض نہ کریں ہمارے دشمنوں نے یہ پیسہ دیا ۔ کیا دھرنے کے لیڈر کے فنڈز کاآڈٹ کرایا گیا؟ کیافنڈز کو ثابت کرنے کی دستاویزآپ کے پاس موجود ہیں۔

معزز جج نے استفسار کیا کہ دھرنے کے لیڈر خطیب ہیں، انہیں تنخواہ کون اداکرتاہے ، مجھے تو لگتا ہے کہ غیبی قوتیں انہیں معاوضہ اداکرتی ہیں، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ہوسکتاہے یہ لوگ ملک کےدشمن ہوں ۔ طاقتورکو نہیں مظلوم کوانصاف کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مجھے کرسی پرانصاف کے تقاضوں کے لئے بٹھایاہے ۔ انصاف نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کاتعاون نہیں ہے ۔

دھرنے والوں نے ملک کاکروڑوں کانقصان کیا ، ایسے لوگ ہمارے چہیتے ہیں ، جن کولوگوں نے پاکستان میں تباہی برپاکی ان کی کوریج اب بھی جاری ہے ، پیمرا نے محض ٹی وی چینلز کو ایڈوائزری جاری کیں ،پیمرا کے ٹی وی چینلز کے خلاف اقدامات مایوس کن ہیں ۔

Comments are closed.

Scroll To Top