تازہ ترین
کراچی میں ٹارگٹ کلر پھر سر اٹھانے لگے، کوئی ملزم گرفتار نہ ہوا

کراچی میں ٹارگٹ کلر پھر سر اٹھانے لگے، کوئی ملزم گرفتار نہ ہوا

کراچی: (20 فروری 2019) (انوسٹیگیٹو جرنلسٹ سہیل شبیر) کراچی میں ٹارگٹ کلر پھر سراٹھانے لگے، پولیس کسی بھی ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی۔ گزشتہ سال کے ماہ دسمبرکی 9 تاریخ سے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا سوئچ آن ہوا۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں شروع ہو گئیں ہیں ان کا حجم اگرچہ ابھی بہت معمولی ہے لیکن یہ اس اندیشہ کو ہوا دیتا ہے کہ کہیں کراچی کا امن ایک بار پھر تار تار نہ ہو جائے۔ گزشتہ سال 9 دسمبر کو گلستان جوہر میں ایم کیو ایم کے میلاد میں دھماکے کے دوران چھ افراد کو زخمی ہوئے۔ 23 دسمبرکی رات رضویہ میں قاتلوں نے پی ایس پی کے دفتر پر گولیاں برسائیں جس میں اظہر اور نعیم جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔

پچیس دسمبر کی رات ڈیفنس کے علاقے میں گھر کے باہر سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

اکیس جنوری کی صبح گارڈن میں ڈیوٹی پر جانے والا ٹریفک پولیس اہلکار احتشام شہید کر دیا گیا۔ اسی واقعے کے اگلے روز فیروزآباد میں سورج ڈھلنے سے قبل دہشت گردوں نے کلٹس گاڑی کو نشانہ بنایا اور کے ڈی اے افسرمحمد علی شاہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

جنوری کے بعد ماہ فروری کا آغاز ہوا تو قاتل مزید سرگرم ہوگئے۔ دس فروری کو پاپوش علاقے میں کار پرفائرنگ سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عتیق تالپور بال بال بچے۔

اگلے روز قاتلوں نے نیو کراچی کا رخ کیا اور یوسی 6 کے دفتر پر گولیاں برسائیں۔ فائرنگ سے ایم کیوایم کارکن شکیل ہلاک اور اعظم زخمی ہوا۔ واقع کے تین روز بھی نہ گرزے تھے کہ 14 فروری کو قاتلوں نے سائٹ ایریا اور اورنگی ٹاؤن میں فائرنگ کرکے پی ٹی آئی کے کارکن شفقت اور عبدالرحمان کوقتل کردیا۔

سخی حسن سرینہ موبائل مارکیٹ کے قرب نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان نے گاڑی پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں پی ایس پی رہنما اور عام انتخابات میں حصہ لینے والے عبدالحسیب جاں بحق ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق قتل کی تمام وارداتوں میں نائن ایم ایم، ایس ایم جی استعمال کی گئی۔ پولیس حکام کے بڑے بڑے دعوں کے بعد قتل کی کسی بھی واردات کا کوئی قاتل قانون کی گرفت میں نہ آسکا۔

Comments are closed.

Scroll To Top