تازہ ترین
لاءکالجز معیار: سپریم کورٹ نے مرکزی کمیٹی قائم کردی

لاءکالجز معیار: سپریم کورٹ نے مرکزی کمیٹی قائم کردی

لاہور:(21جنوری،2018)قانون کی تعلیم دینے والے نجی لاء کالجزکے معیار تعلیم سے متعلق از خود نوٹس کیس کی آج سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جائزے کیلئے کمیٹی قائم کر دیاہے۔

لاء کالجز میں غیرمعیاری تعلیم پر از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں آج ہوئی۔ سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی صدارت میں تین رکنی بینچ نے کی۔ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس منظور ملک شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے لاء کالجز کے معیار کے جائزے کے لیے مرکزی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی سینئر قانون دان حامد خان کی سربراہ میں بنائی گئی ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ چیف جسٹس کاکہناتھا کہ قانون کی تعلیم کا ایسا معیار چاہتے ہیں کہ منشی نہیں بلکہ اچهے وکیل پیدا ہوں جبکہ پرائیویٹ لاء کالجز خلا ضرور مکمل کریں لیکن کاروبار نہ کریں۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیں:

انھوں نے کہا سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کے ازخود نوٹس کے مقصد ملک میں قانون کی تعلیم میں معیاری لاناہے انھوں نے کہا ان کی نظر سے ایک تصویر گزری جس پر درج تھا کہ ایک رات میں بی اے پاس کریں۔ جس پر انھوں نے کہا تعلیم کا یہ معیار نہیں چلے گا۔

سپریم کورٹ نے کمیٹی کو 6 ہفتوں میں لاء کالجز اور قانون کی تعلیم میں اصلاحات کےلیےحتمی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دےدیا ہے۔ سپریم کورٹ ہدایت کی ہے کہ مرکزی کمیٹی اصلاحاتی رپورٹ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو فراہم کریں جبکہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریوں کو لاء کالجز کمیٹی کی معاونت کرنے کا بهی حکمدیاگیاہے.

یہ بھی پڑھیئے

غیرمعیاری لاء کالجزنہیں چلنے دونگا،چیف جسٹس

دنیاکےاہم ہاکی اسٹارز آج لاہور میں پاکستان جونیئرسے ٹکرائیں گے

Comments are closed.

Scroll To Top