تازہ ترین
سانحہ بلدیہ: 5 سال گزرنے کے باوجود 259 افراد کے قاتلوں کا احتساب نہ ہو سکا

سانحہ بلدیہ: 5 سال گزرنے کے باوجود 259 افراد کے قاتلوں کا احتساب نہ ہو سکا

کراچی: (11 ستمبر 2017) گیارہ ستمبر سانحہ بلدیہ تاریخ میں انسانیت کے ساتھ گھناونے کھلواڑ کے واقعات میں لکھا جاتا ہے۔ 259 افراد کو زندہ جلائے جانے کے واقعہ کو پانچ برس گزرنے جانے کے باوجود مقدمہ ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہی ہے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلےکابٹن دبائیں

گیارہ ستمبر دوہزار بارہ سانحہ بلدیہ۔ علی انٹرپرائزز فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی دوسو انسٹھ افراد کی قاتل بن گئی۔ فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو تو چوبیس گھنٹوں میں پالیا گیا لیکن لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ہولناک آتشزدگی متعدد جانوں کا زیاں پھرواقعہ کو حادثہ کا رنگ دے دیا گیا۔واقعہ میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب سندھ ہائی کورٹ میں اس مقدمہ سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی کہ واقعہ بھتہ نہ دینے کا نتیجہ تھا۔ فیکٹری میں آگ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے لگائی جبکہ قتل کے مقدمہ میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے سانحہ بلدیہ کے کرداروں کا انکشاف کیا۔ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو فروری 2015 کو حکم دیا کہ مقدمہ کو ایک سال میں نمٹایا جائے لیکن متاثرین اب تک انصاف کے طلبگار ہیں۔رینجرز کی کارروائیوں کے دوران واقعہ میں ملوث ایم کیوایم کے کارکن شکیل چھوٹا، زبیر چریا سمیت کچھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں اور ضمنی چالان میں ایم کیو ایم حماد صدیقی اور رحمان بھولا کو مفرور قرار دیا گیا۔ گزشتہ سال مقدمہ میں اہم موڑ اس وقت آیا جب مرکزی ملزم رحمان بھولا کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔سانحہ بلدیہ میں سیکیورٹی وجوہات پر تعینات اسپیشل پبلک پراسیکوٹر شازیہ ہنجرہ مقدمہ سے علیحدہ ہوئی۔ جس کے پانچ ماہ بعد ساجد محبوب کو اس مقدمہ کا اسپیشل پبلک پراسیکوٹر تعینات کردیا گیا ۔ ساجد محبوب کہتے ہیں کہ مقدمہ جہاں تھا وہیں ہے۔ سانحہ بلدیہ کو ہوئے پانچ سال گزر جانے کے باوجود آج بھی متاثرین انصاف کے منتظردکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی: پولیس سانحہ بلدیہ کا انکشاف کرنے والے رضوان قریشی کو گرفتار کرنے میں ناکام

سانحہ بلدیہ کے ماسٹر مائنڈ کے ریڈ وارنٹ انٹرپول کو ارسال

 

Comments are closed.

Scroll To Top