تازہ ترین
ملتان: ماڈل قندیل بلوچ کےقتل کوایک سال بیت گیا

ملتان: ماڈل قندیل بلوچ کےقتل کوایک سال بیت گیا

ملتان: (16 جولائی 2017) معروف ماڈل قندیل بلوچ کوقتل ہوئےایک سال بیت گیا لیکن ملتان پولیس تاحال مکمل چالان اب تک پیش نہ کرسکی۔ دوران تفتیش چار پولیس افسران بھی تبدیل کیے جا چکے ہیں۔

سیلفی گرل ماڈل قندیل بلوچ کو 15 اور 16 جولائی 2016 کی درمیانی شب ملتان کے علاقے مظفرآباد میں واقع اسکی رہائش گاہ پر قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے قتل کے الزام میں اس کے بھائی وسیم اور کزن حق نواز، ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط اور رشتہ دار ظفرکےخلاف مقدمہ درج کرلیا جبکہ عدالتی حکم پر معروف عالم دین مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا۔

ایک سال سے قندیل بلوچ قتل کیس کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے جبکہ ملزمان عبدالباسط اور ظفر عدالت سے ضمانت کے بعد اشتہاری ہوچکے ہیں۔ ایک اور ملزم اسلم شاہین ہائیکورٹ سے ضمانت پر ہے جبکہ ملزم عارف سعودی عرب میں ہونے کی وجہ سے شامل تفتیش نہیں ہوسکا اور اسے بھی اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

کیس کی تفتیش کے دوران ملتان پولیس کی نااہلی کھل کر سامنے آگئی۔ عدالت میں تاحال مقدمے کا مکمل چالان پیش نہیں کیا جاسکا جبکہ کیس کے چار تفتیشی افسران کو بھی تبدیل کیا جاچکا ہے۔ ابتدائی تفتیش انسپکٹر الیاس حیدر کو سونپی گئی تاہم ناقص کارکردگی کے باعث تفتیش انسپکٹر عطیہ ناہید کو دی گئی بعد میں میاں ارشاد الحسن اور اس وقت سب انسپکٹر نوراکبر کیس کی تفتیش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

زکوٹا جن کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور

بھارتی اداکارہ الکا کوشال اور ان کی والدہ کو 2 سال جیل کی سزا

Comments are closed.

Scroll To Top