تازہ ترین
حبیب بینک کا امریکی اتھارٹی کی جانب سے عائد جرمانے کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ

حبیب بینک کا امریکی اتھارٹی کی جانب سے عائد جرمانے کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ

واشنگٹن: (30 اگست 2017) حبیب بینک نے امریکی ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جرمانے کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پاکستان کے حبیب بینک نے امریکی ریگولیٹر کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کے نیویارک اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف فائنینشل سروسز کی جانب سے ایچ بی ایل نیویارک برانچ پر 62 کروڑ 96 لاکھ امریکی ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق بینک نے منی لانڈرنگ سے بچاؤ کے لئے 52 نکات پر عملدرآمد نہیں کیا۔

بینک کے صدر نعمان کے ڈار نے جرم میں بینک یا بینک کےعملہ کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تها کہ پرانے کمپیوٹر سسٹم کی وجہ سے 27ہزار ڈالرز کی غلط کلیئرنس ہوئی جو یقینا کوتاہی تهی لیکن بینک پرعائد کردہ جرمانہ بہت ذیادہ ہے۔ بینک کے صدر کے مطابق عائد کئے گئے جرمانے کے خلاف امریکی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

نعمان ڈار کا کہنا تها کہ حبیب بینک ایک مضبوط بینک ہے. اگر بینک کو موجودہ جرمانہ ادا کرنا بھی پڑ گیا تو بینک کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا. انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت جرمانے کی رقم ضرور کم کرے گی۔

حبیب بینک نے نیویارک میں اپنی برانچ بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس بارے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو تحریری طور پر بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکا میں پاکستان بینک پر بھاری بھرکم جرمانہ،بینک نے برانچ بند کردی

 

حبیب بینک کے شیئرز کی نیلامی سے قرضوں کی ادائیگی ہوگی، اسحاق ڈار

Comments are closed.

Scroll To Top