تازہ ترین
امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیاں نظراندازکرنا مایوس کن ہے، دفتر خارجہ

امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیاں نظراندازکرنا مایوس کن ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد: (23 اگست 2017) امریکا کی جنوبی ایشیا اورافغانستان اور پاکستان سے متعلق پالیسی پر دفترخارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دہشتگردی کا سامنا نہیں کیا، معاملےکو 24 اگست کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اٹھائیں گے۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

امریکا کی جنوبی ایشیا اور افغانستان سے متعلق پالیسی پر دفتر خارجہ نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر کے مطابق معاملےکو چوبیس اگست کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اُٹھایا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دہشت گردی کاسامنا نہیں کیا۔ امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیاں نظراندازکرنا مایوس کن ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خاتمےکیلئے عالمی برادری کے ساتھ کوششیں جاری رکھے گا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے ظلم کوسب سے زیادہ برداشت کیا۔ پاکستان اورامریکا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی رہے ہیں۔ دہشتگردی کاخطرہ ہم سب کو یکساں ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نےکہا کہ امریکی صدرکی افغانستان اور جنوبی ایشیا پالیسی کا معاملہ کابینہ اجلاس میں اٹھایا گیا ہے۔ امریکی پالیسی پر کابینہ میں تفصیلی غور کیا گیا۔

پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا نوٹس لیا ہے۔ دنیا میں کسی ملک نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان جتنا کام نہیں کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی اکثروبیشتر سرحد پار سے ہوئی۔ دہشتگردی پوری دنیا کیلئے مشترکہ خطرہ ہے۔ افغانستان کےمسئلےکا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ افغانستان قیادت میں ہونے والے سیاسی مذاکرات ہی افغانستان میں دیرپا امن لا سکتے ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشا میں دہشگردی کے خاتمے اور قیام امن کیلئےکوشاں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

اسلام آباد: دفتر خارجہ میں پاک امریکا اعلیٰ سطحی مذاکرات

Comments are closed.

Scroll To Top