تازہ ترین
مراد علی شاہ دوسری بارسندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب

مراد علی شاہ دوسری بارسندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب

کراچی: ( 16اگست 2018) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مراد علی شاہ مسلسل دوسری بار وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز ہوگئے ہیں، انہوں نے متحدہ اپوزیشن کے شہریار مہر کو شکست دی۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

تفصیلات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی زیرصدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو ا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوارمراد علی شاہ نے 97ووٹ حاصل کیے جبکہ اپوزیشن کے شہریار مہرنے61 ووٹ لیے۔

مراد علی شاہ کا سیاسی سفر

سندھ کے نئے وزیراعلی سید مرادعلی شاہ مرحوم اور سابق وزیر اعلیٰ سید عبداللہ شاہ کے فرزند ہیں،مراد علی شاہ بنیادی طورپرانجنیئر ہیں، این ای ڈی یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد سرکاری ملازمت میں چلے گئے۔ واپڈا میں جونیئرانجنیئر رہے، پورٹ قاسم اتھارٹی میں ایگزیکٹو انجنیئر، اورفش ہاربر اتھارٹی میں ڈائریکٹر رہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والے مراد شاہ امریکہ کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی سے بھی سول اسٹرکچرل انجینئرنگ اور اکنامک انجینئرنگ کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔جامشورو سے تعلق رکھنے والے والے مراد علی شاہ کو سیاست وراثت میں ملی، سابقہ پیپلز پارٹی کی دور حکومت میں وزیر اعلی قائم علی شاہ کی جگہ ان کو وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔ سابقہ دور میں وہ وزیرِ اعلیٰ نامزد ہونے سے قبل صوبائی وزیر خزانہ، وزیرِ توانائی اور وزیرِ آبپاشی بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 2010 میں سندھ میں جب سیلاب آیا تو اس وقت مراد علی شاہ ہی وزیر آبپاشی تھے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

https://youtu.be/Kfjgy4eJwLU

دوہزار تیرہ کے انتخابات سے قبل دوہری شہریت کی وجہ سے انھیں نااہل قرار دیا گیا لیکن وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ انھوں نے کینیڈا کی شہریت پہلے ہی چھوڑ دی تھی، جس کے بعد وہ دوبارہ منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے۔ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں مراد علی شاہ بطور اپوزیشن پارلیمینٹیرین کافی سرگرم رہے۔اس سے قبل گذشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے کیلئے نامزد کیا جس کے بعد سید مراد علی شاہ نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کیلئے شہریارمہرکو نامزد کیا گیا، شہریار مہر نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے، شہریار مہر کے کاغذات نامزدگی پر خواجہ اظہار اورخرم شیرزمان نے تجویز وتائید کنندہ کے طور پر دستخط کئے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز آغا سراج درانی کے اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ریحانہ لغاری بھی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئیں تھیں،آغا سراج درانی نے 96 ووٹ حاصل کئے، ان کے مد مقابل متحدہ اپوزیشن کے امیدوار جاوید حنیف 59 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ 3 ووٹ مسترد کئے گئے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

نئے اسپیکر کا انتخاب خفیہ ووٹنگ کے ذریعے کیا گیا۔ اس موقع پر کسی بھی رکن کو موبائل سے ووٹ کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں دی گئی، کامیاب اسپیکر نے سبکدوش اسپیکر سے حلف لیا۔

واضح رہے کہ آغا سراج درانی نے دو مرتبہ اسپیکر سندھ اسمبلی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا جب کہ ان کے والد اور چچا بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکررہ چکے ہیں۔

بعد ازاں پیپلزپارٹی کی ریحانہ لغاری اٹھانوے ووٹ لیکر ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہوگئیں، جبکہ ان کی مدمقابل متحدہ اپوزیشن کی رابعہ اظفر کو انسٹھ ووٹ ملے۔حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 75 ، تحریک انصاف نے 23، ایم کیو ایم نے 16، جی ڈی اے نے 11 ، ٹی ایل پی نے 2 اور ایم ایم اے نے ایک نشست حاصل کی ہے۔

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی آئین پاکستان کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کی گئی۔ اس ایوان کی 168 نشستیں ہیں جن میں سے 130 پر براہ راست انتخابات منعقد ہوتے ہیں جبکہ 38 نشستیں خواتین اور غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔

اس سے قبل تیرہ اگست کوسندھ اسمبلی کے بھی نومنتخب ارکان نے ایوان کی رکنیت کا حلف اٹھالیا ہے،اسپیکر آغا سراج درانی نے ارکان سے حلف لیا۔ اجلاس کے آغازپراسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ تمام نومنتخب ارکان کو ایوان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اسی اسمبلی نے پاکستان کے قیام کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔ یہی وہ اسمبلی ہے جس میں قائداعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا حلف لیا۔

ویڈیو دیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

کارروائی کے باقاعدہ آغازپرانہوں نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا، پچپن ارکان نے اردوجب کہ بعض نے سندھ اورانگریزی زبان میں حلف لیا، اس موقع پرمہمانوں کی گیلری میں شدید نعرے بازی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کے لئے انتخاب آج ہوگا

عام انتخابات: سندھ اسمبلی کے امیدواروں کی فہرست

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top