تازہ ترین
معزول جج شوکت عزیز صدیقی کا برطرفی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

معزول جج شوکت عزیز صدیقی کا برطرفی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:(15اکتوبر، 2018) ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو گذشتہ روز عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے وکلاء سے مشاورت کی ہے جس کے بعد پیر تک برطرفی کا نوٹی فکیشن سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور وزارت قانون کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کی جسے انہوں نے منظور کرلیا جس کے بعد جسٹس شوکت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے برطرفی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔

معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی خفیہ ایجنسی عدالتی امور میں مداخلت کررہی ہے اور خوف و جبر کی فضا کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے جب کہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے۔

اس سے قبل آج ہائی کورٹس کی ذیلی عدالتوں کے سپروائزری کردار سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے تھے کہ کہ ججز کا احتساب شروع ہو چکا ہے،جو جج کم کیسز کے فیصلے کرے گا اس کے خلاف آرٹیکل دو سو نو کے تحت کاروائی ہو گی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ون نے سات ہزار کیس نمٹانے ہیں ،ہم ججز سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں بیس کیس نمٹائے ہیں،اب ہم کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل دو سو نو کے تحت کاروائی کرینگے۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اب بہت ایکٹو ہے،ججز کا احتساب بھی شروع ہو چکا ہے،لوگ چیخ چیخ کر مر جاتے ہیں مگر انہیں انصاف نہیں ملتا ہے، ملک میں لوگ تڑپ رہے ہیں، بلک رہے ہیں کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دئیے کہ لاہور ہائی کورٹ اپنی سپروائزری ذمہ داریوں میں ناکام نظر آتی ہے،ہائی کورٹس کی نگران کمیٹیاں ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھ رہیں ،ہر ججز کو گاڑی چاہیے، بنگلہ چاہیے مالی مراعات چاہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ہم ہائی کورٹ کی نگران کمیٹیوں کے ججز کو چمبر میں بلا کرانکی کارکردگی پوچھیں، اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہائی کورٹ کے سپروائزری کردار سے مطمئن نہیں تو آپ کیا کہیں گے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز متنازع تقریر کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹادیا گیاتھا، جسٹس شوکت عزیزصدیقی کو عہدے سے برطرف کرنے کی منظوری صدر مملکت نے دی تھی۔

وزارت قانون نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔اس سے قبل چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے صدر مملکت کو ارسال کی گئی سمری میں کہا گیا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی کو راولپنڈی بار کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے حساس ادارے کے خلاف بیان دیا۔

جسٹس شوکت نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر رہنے کے اہل نہیں رہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم جوڈیشنل کونسل نے جسٹس شوکت صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی

لاپتہ بچیوں کی عدم بازیابی پر جسٹس شوکت کا اظہار برہمی

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top