تازہ ترین
ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف ودیگر کی ترمیم شدہ درخواست دائر

ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف ودیگر کی ترمیم شدہ درخواست دائر

اسلام آباد: (10 اگست،2018) سابق وزیر اعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ایون فیلڈر ریفرنس میں سزامعطلی کی درخواستوں میں ترمیم کیلئے متفرق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر متفرق درخواست میں سزا معطلی کے ساتھ احتساب عدالت اور نیب کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران احتساب عدالت کو فریق نہ بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا،جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے وکیل صفائی امجد پرویز کی استدعا پر درخواست میں ترمیم کیلئے مہلت دی تھی۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست میں احتساب عدالت کو فریق بنا کر ترمیم کے ساتھ دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد صفدر کے وکیل نےعدالت کو بتایا کہ ایک سو چوہتر صفحات کے عدالتی فیصلے میں ان کے موکل کے خلاف صرف ایک لائن لکھی گئی جس میں سزا سنائی گئی ہے۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں جن کے مطابق پانچ سال سے کم سزا پر معطلی کی درخواست منظور کی جاسکتی ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسی بنیاد پر اس درخواست کو الگ کیا ہے۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ احتساب عدالت نے فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کی گواہی پر جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرنے کے الزام پر سنائی حالانکہ فرانزک ایکسپرٹ نے خود تسلیم کیا کہ 2005 میں کیلبری فونٹ موجود تھا اور وہ بھی ڈاون لوڈ کر کے استعمال کر چکا ہے۔ جیرمی فری مین نے جے آئی ٹی کے کوئسٹ سالسٹر کو ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا ابھی میرٹس پر بات نہ کریں تو بہتر ہے۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو پیش کرنے کا حکم

واضح رہے کہ نو اگست کو احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو تیرہ اگست کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

ویڈیو دیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

عدالت میں سماعت کے آغاز پرنیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے ریفرنسزاحتساب عدالت منتقل کردیئے ہیں، انہوں نےعدالت کو بتایا کہ ریفرنسز میں 3،تین ملزمان نامزد ہیں، حسن اورحسین نواز اشتہاری ہیں جبکہ نوازشریف جیل میں قید ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نوازشریف کوسیکیورٹی خدشات کے باعث پیش نہیں کیا گیا احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ دفاع کے وکیل آجائیں پھردیکھتے ہیں،احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے پیر کو نوازشریف کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پرجے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کو بھی طلب کرلیا،بعدازاں معزز جج محمد ارشد ملک نے شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت ملتوی کردی۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی نیب ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست منظورکرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر فلیگ شپ انویسٹمنٹ اورالعزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز کی سماعت نہیں کرسکتے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ چار صفحات پر مشتمل ہے، جس میں عدالت نے فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک سے احتساب عدالت نمبر دو کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق احتساب عدالت نمبر ایک کی کارروائی جہاں سے رکی ہے وہیں سے ہی کورٹ نمبر دو جاری رکھے،حکم نامے پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے دستخط موجود ہیں۔

نواز شریف و دیگر کی سزاؤں کیخلاف سماعت کرنیوالابینچ ٹوٹ گیا

کل لاہور ہائیکورٹ کا نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کیخلاف درخواست کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا تھا،جسٹس شمس محمود مرزا نے یہ معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھجواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ ذاتی وجوہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت نہیں کرسکتے۔

ویڈیو دیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

چار اگست کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے شریف خاندان کے افراد کی سزا کے خلاف ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر کی درخواست کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیا تھا۔درخواست گزار ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر نے اپنی پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ تین بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے نواز شریف کو نیب کے قانون کے تحت سزا دی گئی، جو کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ختم ہوچکا ہے۔ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو مردہ قانون کے تحت سزا غیر قانونی ہے، لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

حسن اورحسین نواز کے نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی تردید

نواز شریف و دیگر کی سزاؤں کیخلاف سماعت کرنیوالابینچ ٹوٹ گیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top