تازہ ترین
زینب کے قاتل کی عدم گرفتاری پنجاب حکومت کی ناکامی ہے، خورشید شاہ

زینب کے قاتل کی عدم گرفتاری پنجاب حکومت کی ناکامی ہے، خورشید شاہ

قصور: (16 جنوری 2018) اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ سانحہ قصور جیسے واقعات دیگر ممالک میں بھی ہوتے ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں فوری ایکشن لیتی ہیں، دیگرحکومتیں پنجاب حکومت کی طرح بے بس نہیں ہوتیں۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ آج قصور پہنچے جہاں انہوں نے زینب کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت کی اور اس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلے بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں اگر اس حوالے سے توجہ دی جاتی تو شاید آج زینب زندہ ہوتی۔سانحہ قصور واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری سے متعلق خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کاغذوں کے پیٹ بھرنے کے لیے بے گناہوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، بے گناہوں کو پکڑنا حکومت کی بے بسی اور نااہلی ہے، یہ سمجھ رہے تھے کہ ماڈل ٹاؤن کی طرح یہ بھی معاملہ ختم ہوجائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ یہ ملک کسی مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اس لیے نہیں کہ چند گھرانے ملک میں حکومت کریں، مجھے کیوں نکالا کہنے والوں سے سوال بنتا ہے کہ اس بچی کو کیوں مارا گیا۔اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ہم یہاں سیاست کرنے آتے ہیں، سیاست اچھی چیزہے‘ سیاست سے ہی عوام کی خدمت کی جاتی ہے، پنجاب پولیس اور پنجاب حکومت مکمل طور پرناکام ہوچکے ہیں، قصور واقعے نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں۔

زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب کے والدین سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں زینب کے والدین کے ساتھ ہوں‘ ملزمان کوہر صورت قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔

اس سے قبل آج چیف جسٹس سپریم کورٹ نے زینب قتل پر لاہور ہائی کورٹ کو سماعت سے روکتے ہوئے آئندہ سماعت لاہور رجسٹری میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیم کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ زینب کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص سیریل کلر معلوم ہوتا ہے، طیبہ تشدد کیس بھی ہمارے پاس ہے، بچوں کے ساتھ معاملات پر پارلیمنٹ سے ابھی تک کوئی قانون نہیں آیا جبکہ پولیس کی ناقص تفتیش سے لوگ بری ہوجاتے ہیں، ہر کیس میں وہی غلطیاں کی جاتی ہیں، مسئلہ حل نہ ہوا تو حکومت اور پولیس کی ناکامی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

زینب قتل کیس: آئندہ سماعت پر تحقیقاتی ٹیم طلب

پہلے سنجیدگی دکھائی جاتی تو آج زینب زندہ ہوتی، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top