تازہ ترین
ضمنی مالیاتی بل 2019ء سینیٹ میں بھی پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج

ضمنی مالیاتی بل 2019ء سینیٹ میں بھی پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج

اسلام آباد: (23 جنوری 2019) اپوزیشن کے احتجاج اور شور شرابے میں ضمنی مالیاتی بل دوہزارانیس سینیٹ میں بھی پیش کردیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی بجائے وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر کی جانب سے ترمیمی مالیاتی بل سینیٹ میں پیش کرنے پر اپوزیشن کا شدید احتجاج اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ وزیرمملکت خزانہ ضمنی مالیاتی بل سینیٹ میں پیش کرنے لگے تو رضاربانی نے اس پر اعتراض کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان کی روایت ہے کہ وزیر خزانہ منی بل پیش کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ دو منٹ پہلے قومی اسمبلی میں تقریر کرکے گئے ہیں۔ سینیٹ قواعد کے مطابق وزیر خزانہ کی موجودگی میں کوئی اور فنانس بل پیش نہیں کرسکتا۔ وہ آکر بل پیش کریں، کل اس معاملے پر تحریک استحقاق ایوان میں لاؤں گا۔

اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے رضاربانی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسد عمر کا گلہ خراب ہے تو انہیں کھانسی کا شربت لادیا جائے تاکہ وہ مالیاتی بل سینیٹ میں پیش کرنے کا فریضہ ادا کرسکیں۔ روز روز بجٹ پیش کرنے سے معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔

شبلی فراز نے اپوزیشن کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بحث میں وقت ضائع کرنے کی بجائے وزیرمملکت خزانہ کومالیاتی بل پیش کرنے دے۔ انہوں نے چیئرمین سے رولنگ کا مطالبہ کیا۔

چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دی کہ وزیرمملکت خزانہ کو مالیاتی بل پیش کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ جس کے بعد وزیرمملکت خزانہ نے مالیاتی بل پیش کردیا۔

چیئرمین سینیٹ نے منی بجٹ پر ارکان سے آئندہ جمعہ تک سفارشات طلب کرلیں جو قومی اسمبلی کو بھجوائی جائیں گی۔

اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی وزیرخزانہ کی بجائے وزیرمملکت خزانہ کی جانب سے مالیاتی بل پیش کرنے پراحتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا اور کورم کی نشاندہی کی۔ کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس کل سہ پہرتین بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top