تازہ ترین
سینیٹ الیکشن لڑنے پر اسحاق ڈار آئندہ ہفتے سپریم کورٹ طلب

سینیٹ الیکشن لڑنے پر اسحاق ڈار آئندہ ہفتے سپریم کورٹ طلب

اسلام آباد: ( 12 مارچ 2018) سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کے سینیٹ الیکشن لڑنے کیخلاف درخواست باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقین کونوٹسز جاری کر دئیے، عدالت نے سابق وزیر خزانہ کو آئندہ ہفتے خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار بیرون ملک تمام سہولیات سے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائے

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ نہیں پتہ اسحاق ڈار بیمار ہیں یا بیرون ملک سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، عدالت صرف یہ دیکھے گی کہ مفرور شخص الیکشن لڑ سکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اعتراض ہے کہ انتخابی خرچ کے لیےمفرور شخص بینک اکاونٹ کیسے کھول سکتا ہے ، سوال یہ ہے کہ کسی شخص کی غیر موجودگی میں کیا اسکا بینک اکاؤنٹ پاکستان میں کھولا جاسکتا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کیس میں ہائیکورٹ کے جج صاحب نے شاید یہ کہا کہ مفرور ملزم زیر سماعت مقدمے کے علاوہ کسی اور فورم سے رجوع کر سکتا ہے ۔

ایک کیس میں تو یہ بھی کہا گیا کہ مفرور شخص کی طرف سے وکیل کا پیش ہونا توہین عدالت ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ کون سا قانون ہے جس کے تحت اشتہاری الیکشن نہیں لڑسکتا یہ کہاں لکھا ہے ؟

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ، کیا ہائیکورٹ نے پیرا میٹرز طے کیے ہیں کہ مفرور الیکشن لڑسکتا ہے ؟ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ اسحاق ڈار اس وقت تک اشتہاری ہیں جب تک وہ سرنڈر نہیں کرتے انہیں نیب کورٹ نے اشتہاری قرار دیا تھا اور اب حتمی طور پر اشتہاری ہو چکے ہیں ہے ۔

یاد رہے کہ نو مارچ کو سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیا گیا تھا درخواست پیپلز پارٹی کے امیدوار نوازش پیرزادہ نے درخواست دائر کی تھی۔درخواست گذار کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا، کیونکہ قانون کے تحت مفرور ملزم کے کوئی بنیادی حقوق نہیں ہوتے، لہذا عدالت عظمیٰ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا جائے۔

واضح رہے کہ دو مارچ کو لاہورہائیکورٹ میں جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔ لاہورہائیکورٹ میں جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔درخواست گذار نے مؤقف اختیار کیا کہ اسحاق ڈار عدالتی مفرور ہیں اور الیکشن لڑنے کے اہل نہیں، ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جس کے بعد اسحاق ڈار نے اپیل دائر کی تاہم مفرور اپیل نہیں کر سکتا، الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے حقائق کے برعکس اسحاق ڈار کو جنرل سیٹ پر الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ٹربیونل کی جانب سے الیکشن لڑنے کی اجازت قوانین کے خلاف ہے لہذا عدالت اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے اور اسحاق ڈار کو سینٹ انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔اسحاق ڈار کے وکیل نے دلائل دیئے کہ درخواست گزار نے اعتراض ریٹرننگ افسر کے روبرو نہیں کیا، ایسے میں درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔

عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار انتخابات کے بعد الیکشن پیٹیشن دائر کر سکتا ہے اور اسحاق ڈار کو سینیٹ الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے نوازش علی کی جانب سے اسحاق ڈارکیخلاف درخواست دائر کی گئی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ اسحاق ڈار مقدمات میں اشتہاری ہے، اشتہاری شخص انتخابات میں حصہ لینے کا اہل نہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹ الیکشن: اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا اقدام اپیلٹ ٹریبونل میں چیلنج

جائیداد ضبطگی کیس میں اسحاق ڈار کی درخواست مسترد

 

Comments are closed.

Scroll To Top