تازہ ترین
ڈی پی او پاک پتن تبدیلی کیس کی سماعت 17 ستمبر مقرر

ڈی پی او پاک پتن تبدیلی کیس کی سماعت 17 ستمبر مقرر

اسلام آباد:(15ستمبر 2018)سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاک پتن تبدیلی کا کیس سترہ ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کردیاگیا ہے، جہاں آئی جی پنجاب کی تحقیقاتی رپورٹ پر سماعت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آئی جی پنجاب کی تحقیقاتی رپورٹ پر کیس کی سماعت کرے گا، جس کے لئے عدالت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیےگئے ہیں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل سابق آئی جی پنجاب کلیم امام کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق 24 اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پی ایس او کے ذریعے پولیس افسران کو رات 10 بجے طلب کیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ افسران کو آئی جی پنجاب کو بتائے بغیر طلب کیا، اس دوران مانیکا فیملی کے قریبی دوست احسن اقبال جمیل وزیراعلیٰ پنجاب کی دعوت پر ان کے دفتر آئے، احسن اقبال جمیل نے مانیکا خاندان کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات سے متعلق شکایت کی۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے خاور مانیکا کی بیٹی کا ہاتھ پکڑنے اور دھکے دینے کی بھی شکایت کی۔

ڈی پی او پاکپتن نے آرپی او اور وزیراعلیٰ کے سامنے پراعتماد طریقے سے اپنی پوزیشن واضح کی، ڈی پی او نے احسن اقبال جمیل سے کہا کہ اگر پیغامات کا مطلب کسی کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنا ہے تو میں نہیں جاؤں گا، ڈی پی او لوگوں کے ڈیروں پر نہیں جاتے۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آئندہ وزیر اعلیٰ کسی بھی پولیس افسر کو براہ راست اپنے دفتر طلب نہ کریں، اگر کسی افسر سے متعلق کوئی معاملہ ہو تو اسے آئی جی پنجاب کے ذریعے طلب کیا جائے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، احسن جمیل اقبال گجر ،وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او عمر اور سی ایس او حیدر علی ،خاور مانیکا، ان کے صاحبزادے ، صاحبزادی اور پولیس اہلکاروں کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں جبکہ سابق ڈی پی او پاک پتن اور آر پی او ساہیوال کے بیانات پر مشتمل بیان حلفی بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس: خاور مانیکا پیر کو سپریم کورٹ طلب

چیف جسٹس نے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کا ازخود نوٹس لے لیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top