تازہ ترین
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد: (14 فروری 2018) سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آرٹیکل باسٹھ ون ایف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے نااہلی مدت کیس کی سماعت کی۔

دو روز غیر حاضر رہنےکے بعد اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل مکمل کئے، اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں نااہلی کا تعین نہیں کیا گیا، اس لئے عدالت عظمیٰ کو کیس ٹو کیس مدت کا تعین کرنا ہو گا، جرم کیا ہوا ہو تو دفعہ ساری عمر ہی رہے گا۔جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا نااہل شخص ضمنی یا آئندہ الیکشن لڑ سکتا ہے ، کیا نااہل شخص ڈیکلریشن کے بعد بھی الیکشن لڑ سکتا ہے یا ڈیکلریشن وقت کے ساتھ ازخود ختم ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیےکہ اس کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جب مدت کا تعین نہیں تو نااہلی تاحیات ہوتی ہے ؟ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پارلیمنٹ کو اس حوالے سے جائزہ لینا ہو گایاد رہے کہ بارہ فروری کو ہونے والی سماعت کے موقع پرچیف جسٹس ثاقب نثار نے نااہلی مدت کیس میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو عدم پیشی پر 20ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی تھی۔

سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کا پس منظر

تیس جنوری کو سپریم کورٹ میں آئین کےآرٹیکل باسٹھ ون ایف کی تشریح کےلئے آئینی درخواستوں کی سماعت ہوئی، چودہ ارکان اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں، جس پر سپریم کورٹ نے تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ۔اسی روز عدالت عظمیٰ نے آرٹیکل باسٹھ ایف ون کی تشریح کے کیس کی سماعت کے سلسلے میں پیش نہ ہونے پر نوازشریف کو نوٹس جاری کیا،سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہم سب کو سننا چاہتے ہیں اور سب کا مؤقف لینا چاہتے ہیں، جب کیس کی سماعت کا سوچا تو نواز شریف اور جہانگیر ترین کا نام ذہن میں آیا، اسی لیے دونوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

درخواست گزاروں کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے آرٹیکل باسٹھ کو آئین سے ختم نہیں کیا ، ہم آئین میں کسی بھی کمی کی تشریح کر سکتے ہیں ، یا پھر ایسی کسی کمی کو پارلیمنٹ دیکھے ، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ بالادست تو ہے ، مگر یہ بھی آئین کی پابند ہے۔اکتیس جنوری : آرٹیکل باسٹھ ون ایف سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے موقع پر نوازشریف کے وکیل نے کیس کی تیاری کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ، سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ نواز شریف کی طرف سے کون آیا ہے؟’ جس پر ایڈووکیٹ اعظم نذیر تارڑ کھڑے ہوئے اور عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ سابق وزیراعظم کی جانب سے وہ پیش ہوئے ہیں۔

وکیل نواز شریف کا کہنا تھا کہ عام لوگ بھی اس کارر وائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پبلک نوٹس ان لوگوں کے لیے تھا جو متاثرہ ہیں، متاثرہ لوگ اپنے لیے ایک مشترکہ وکیل کر لیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے مقدمے میں مدت کا تعین کرنا چاہتے ہیِں۔

یکم فروری کو ہونے والی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نااہل شخص کو عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ بدیانتی ایمانداری میں تبدیل ہو گئی ہے، معافی بھی تب ہی تسلیم ہو گی جب غلطی تسلیم کی جائے ، جس نے توبہ کرنی ہے ہمارے سامنے آئے ۔

آٹھ فروری کو ہونے والی سماعت پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پارلیمنٹ آزاد نہیں ہے جبکہ ہم نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ جب تک ڈیکلریشن موجود ہے نااہلی برقرار رہے گی۔

عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جوکام پارلیمنٹ نے نہیں کیا وہ عدالت کیسے کرسکتی ہے، سیاسی معاملات پر فیصلہ سازی پارلیمنٹ کوکرنی چاہیے، جس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ عدالت مفروضے پرمبنی سوالات حل نہیں کرسکتی، دیکھنا ہے آرٹیکل 62 ون ایف کا سوال ٹھوس ہے؟درخواست گزار کی وکیل عاصہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق آئین کا دل اورروح ہے، جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 62 ون ایف مبہم ہے تسلیم کرتے ہیں، اس آرٹیکل کی تشریح کرنا مشکل ٹاسک ہوگا۔

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آئیڈیل لوگوں کے معیاربلند رکھنے چاہیے جبکہ جسٹس سجاد علی نے کہا کہ عام آدمی اورمنتخب نمائندوں کے لیے معیارمختلف ہونے چاہئیں۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ 1985سے پہلے کسی کو نا اہل قرار نہیں دیا گیا، آرٹیکل 62 اور63 کو اکٹھے دیکھا جانا چاہیے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا شخص جو صادق وامین نہیں کیا وہ ضمنی انتخاب لڑسکتا ہے؟ بد دیانت شخص کی نااہلی کی مدت کتنی ہونی چاہیے؟۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ یہ تاثردرست نہیں کہ پارلیمنٹ آزاد نہیں ہے، کیا غیرایماندار، غیرامین قرار پانے والا ضمنی الیکشن لڑسکتا ہے،انہوں نے ریمارکس دیئے کہ فرض کرلیں آرٹیکل 62 ون ایف مبہم ہے، عدالت کسی مبہم آرٹیکل کوکالعدم کیسے کرسکتی ہے، کسی مبہم آرٹیکل کی تشریح کرنے کا طریقہ کارکیا ہوگا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے کہا کہ اب اس مقدمے میں کسی اور کو نہیں سنیں گے جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے کیس سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پراٹارنی جنرل کو دلائل دینے کا حکم دیا تھا۔

بارہ فروری کو ہونے والی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار ن اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو عدم پیشی پر بیس ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کیس کی سماعت چودہ فروری تک ملتوی کردی تھی۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top