تازہ ترین
ڈبوں میں ناقص دودھ  کیس: سپریم کورٹ کامقدار بڑھانےوالے انجیکشن ضبط کرنے کاحکم

ڈبوں میں ناقص دودھ  کیس: سپریم کورٹ کامقدار بڑھانےوالے انجیکشن ضبط کرنے کاحکم

کراچی (14جنوری، 2018)ملک پیک ڈبوں میں ناقص دودھ کی فراہمی اور دودھ کی مقدار بڑھانے کیلئے انجکشنز کا استعمال پر عدالت نے ٹیکوں کو ضبط کرنے کا کام ڈرگ انسپکٹروں کے ذمہ کردیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں آج اتوار کو بھی تین مختلف کیسوں کی سماعت کی۔ سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جس کے دودیگر ججوں میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجادعلی شاہ شامل ہیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

ڈبوں کے ناقص دودھ کی فروخت کیس کی سماعت کے موقع پر ناظر کورٹ کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ بھینسوں کو اضافی دودھ کے لیے لگائے جانے والے 39پیکٹس شاہین میڈیکل اسٹور سے ضبط کیے گئے ہیں۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈرگ انسپکٹر کیا کام کر رہے ہیں ،عدالت نے ڈرگ انسپکٹروں کو  ٹیکوں کو ضبط کرنے کے احکامات دیے اس کے ساتھ ساتھ  ایف آئی اے کق بھی ہدایت دی گئی ہے ک ڈسٹری بیوٹر اور ریٹیلرز کا جائزہ لے اور ملک پیک کمپنیوں میں چھاپا مار کر صفائی ستھرائی کے معاملات اور دودھ فیکٹریوں میں موجود ملازمین کے میڈیکل سرٹیفیکیٹ چیک کئے جائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب فورڈ اتھارٹی نے کام کیا ہے اور وہاں بہتری آئی ہے،مگر سندھ میں صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی  ہے اس میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

ڈبوں میں ناقص دودھ کی فروخت سے متعلق مختلف کمپنیوں نے جواب عدالت میں داخل کرادیے جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ دودھ اور ٹی وائٹنرز الگ الگ ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ٹی وی یا اخبارات پر اشتہارات میں واضح کریں کہ ٹی وائٹنرز دودھ نہیں اور آپ کو ڈبوں پر چسپان کرنا ہوگا کہ یہ دودھ ہرگز نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ہر برانڈز کےدودھ کا جائزہ لیں گے جب کہ چیف جسٹس نے عدالتی معاون کو حکم دیا کہ ہر کمپنی سے 50 ہزار روپے لے کر معائنہ کرائیں، ڈبہ پیک دودھ کی پی سی ایس آئی آر خود معائنہ کریں ۔

عدالت نے ڈبہ دودھ کا معائنہ کرا کے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی جب کہ چیف جسٹس نے حکام کو ہدایت کی کہ جس کمپنی کا دودھ مضر صحت ہوا اس کا پورا اسٹاک اٹھا لیں، کمپنیاں خواہ کہیں کہ بھی ہوں، سب کا معائنہ کرایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

سپریم کورٹ کا کراچی میں واٹر ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی بند کرنے کا حکم

ہائیکورٹ 90 روز میں کیسز کے فیصلے کرے، چیف جسٹس ثاقب نثار

Comments are closed.

Scroll To Top