تازہ ترین
سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کالعدم قرار دے دی

سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کالعدم قرار دے دی

اسلام آباد: (یکم جون، 2018) سپریم کورٹ نے خواجہ آصف نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ان کی تاحیات نااہلی ختم کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیر خارجہ کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ معطل کیا، بینچ میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی شامل تھے، جبکہ خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کا مختصر فیصلہ جسٹس عمر بندیال نے سنایا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

Posted by Abbtakk on Thursday, May 31, 2018

خواجہ آصف نے سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی تھی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ موجودہ رٹ دائر ہونے سے قبل بینک اکاؤنٹ اور اقامہ ظاہر کر چکا تھا جبکہ کاغذات نامزدگی کے وقت ڈکلیئرڈ اثاثوں کی 0.5 فیصد رقم تھی۔

فیصلے سے قبل وکیل عثمان ڈار نے دلائل دیتے ہوئے کہا خواجہ آصف وفاقی وزیر ہوتے ہوئے غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کرتے رہے، یہ اقدام مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ مفادات کے ٹکراؤ سے نااہلی ہو سکتی ہے ؟ دنیا میں مفادات کے ٹکراؤ پر بہت بحث ہوئی ، ٹرمپ کی بیٹی حکومتی معاملات میں ذمہ داریاں سرانجام دیتی ہے ، ٹرمپ کا داماد اپنا کام کرتا ہے ، کیا مفادات کے ٹکراؤ پرنااہلی ہونی چاہیے یا عوامی عہدے داروں کو وارننگ دی جائے ؟ ۔

وکیل خواجہ آصف نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمہ میں شواہد کا بوجھ درخواستگزار کے کندھوں پر ہوتا ہے، ہر بھول یا غلطی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوتا ، جہاں حقائق تسلیم کر لیے جائیں تو سزا نااہلی ہوسکتی ہے، قانون کے تحت اثاثوں کا ذرائع بتانا لازمی نہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا خواجہ آصف نے 2012 میں 68 لاکھ غیر ملکی آمدن ظاہر کی ، 2013 میں خواجہ آصف نے غیر ملکی آمدن 7 لاکھ ظاہر کی۔ وکیل خواجہ آصف نے کہا کاغذات نامزدگی اور سالانہ گوشواروں کے فارم میں اثاثوں کو ظاہر کرنے میں فرق ہے۔یاد رہے کہ چھبیس اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقامہ کیس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دے دیا تھا، ان کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے عثمان ڈار نے دائر کی تھی۔

لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ نے خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا، پینتیس صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا ، جس کے بعد ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم کردی گئی۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

خواجہ آصف نا اہلی کیس: کب کیا ہوا

دس اگست دوہزار سترہ: پی ٹی آئی نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نا اہلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، پٹیشن عمران خان کی ہدایت پر تیار کی گئی جسے عثمان ڈار نے دائر کیا، جسٹس عامرفاروق نے اس کیس کی سماعت کی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پٹیشن میں الزام لگایا گیا تھا کہ خواجہ آصف کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، وزیر دفاع نے اقامہ کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائیں،خواجہ آصف سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے غیر ملکی کمپنی کی ملازمت کرتے رہے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

اٹھارہ ستمبر دو ہزار سترہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیرخارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا جبکہ عدالت نے فریقین کوعدالتی دائرہ اختیار سے متعلق دلائل جمع کرنے کاحکم بھی دیا تھا،اپنے ریمارکس میں جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ نااہلی کیس کو ممکنہ طور پر معاملہ لارجر بینچ کو بھیجا جائے گا۔

اٹھارہ ستمبر دو ہزار سترہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کی درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، اس موقع پرجسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ وکیل بھی جب کوئی دوسرا کام کرتا ہے تو اس کا وکالت کا لائسنس معطل کر دیا جاتا ہے۔تئیس ستمبر دو ہزار سترہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کی نااہلی کا کیس ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا،جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس حسن اورنگزیب شامل تھے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

سات اکتوبر دوہزار سترہ : اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کی نا اہلی سے متعلق درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئےخواجہ آصف کو جواب داخل کرانے کا حکم دیا،اس سے قبل سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ، بطور وفاقی وزیر وہ دوسری نوکری کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

تیرہ نومبر دو ہزار سترہ: اقامے سے متعلق وزیرخارجہ خواجہ آصف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرایا گیا جواب واپس لیا، جواب میں کہا گیا تھا کہ اٹھارہ ستمبر کو عدالت نے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ دیا جبکہ چھبیس ستمبر کو عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔اپنے جواب میں وزیر خارجہ نے موقف اختیار کیا کہ میرے اقامے سے متعلق درخواست گزار نے عدالت سے تمام حقائق چھپائے ہیں، کیونکہ درخواست گزار میری نااہلی کے لئے سپریم کورٹ تک تمام فورم استعمال کر چکا ہے ، تاہم شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ اب ہائی کورٹ کی جانب سے میرے کیس میں لارجر بینچ کی تشکیل سے مجھے اپیل کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، لہذا عدالت اس پر نظر ثانی کریں، جسے ہائی کورٹ نے قبول کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور سیکرٹری قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کئے۔

چوبیس نومبر دوہزار سترہ: خواجہ آصف نااہلی کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ، جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں خواجہ آصف نے اپنا اقامہ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اقامہ ذاتی حیثیت میں حاصل کیا، درخواست گزار کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے،جواب میں کہا گیا تھا کہ عثمان ڈار کے الزامات نئے نہیں پرانے ہیں، انہوں نے یہی الزامات الیکشن ٹربیونل میں بھی عائد کیے تھے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

تیس جنوری دوہزار اٹھارہ: پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے خواجہ آصف کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیلئے چیئرمین نیب کو خط لکھا،جس میں ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

عثمان ڈار نے چیئرمین نیب کو لکھے گئے خط میں بتایا کہ وزیر خارجہ کے فارن اکاونٹس میں مشکوک اور بے نامی ٹرانزیکشنز کی گئیں، ہم نے غیر ملکی ہوٹلزاور مشکوک بینک اکاوٴنٹس کا ریکارڈ حاصل کیا ہے جو انہوں نے الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا تھا،خط میں عثمان ڈار کا مزید بتانا تھا کہ خواجہ آصف غیر ملکی کمپنی میں ملازمت اور اقامہ تسلیم کر چکے ہیں جبکہ نواز شریف اور خواجہ آصف کے کیس میں مماثلت ہے۔عثمان ڈار کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف منی لانڈرنگ اور مالی جرائم میں ملوث ہیں، وفاقی وزیر خارجہ کی منی نڈرنگ سے متعلق نا قابل تردید شواہد موصول ہوئے ہیں، انکے فارن اکاونٹس میں کروڑوں روپے منتقل ہوئے، منی لانڈرنگ کے لئے اہلیہ کے فارن اکاونٹس بھی استعمال کئے گئے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

بیس مارچ دوہزار اٹھارہ: وزیرخارجہ خواجہ آصف کے خلاف منی لانڈرنگ کی شکایت کرنے والے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کو نیب نے طلب کیا، جہاں انہوں نے وزیر خارجہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں نیب کو اہم دستاویزات جمع کرائیں۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

ستائیس مارچ دوہزار اٹھارہ: خواجہ آصف نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیا بینچ تشکیل دیا ، نئے بینچ کی سربراہی جسٹس اطہر من اللہ کریں گے، آٹھ مارچ کو خواجہ محمد آصف کی نااہلی کیس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں شامل جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس کیس کی سماعت سے معذرت کی، جس کے بعد بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا تھا۔

دس اپریل دوہزار اٹھارہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے درخواست گزار اور خواجہ آصف کے وکلاء سے تین روز میں رائے طلب کی، اس سے قبل خواجہ آصف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف پہلے دبئی میں بینک میں ملازمت کرتے تھے، وہ دبئی میں فل ٹائم نہیں بلکہ ایڈوائزر کے طور پر ملازمت کرتے تھے، جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی اور ملک میں ملازمت کرتا ہے تو پاکستان میں کیسے وزارت چلاسکتا ہے؟

سولہ اپریل دو ہزار اٹھارہ: خواجہ آصف نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد وفاقی وزیر کی جانب سے اضافی دستاویزات اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئیں۔

دستاویزات میں بتایا گیا کہ کنسلٹیشن معاہدے کے تحت خواجہ آصف کی فل ٹائم کمپنی میں موجودگی ضروری نہیں، کمپنی خواجہ آصف سے تجاویز فون یا ان کے دورہ دبئی کے دوران لے لیتی تھی، ساتھ ہی کمپنی کے نمائندے نے خواجہ آصف کی ملازمت اور شرائط پر پاکستان کی عدالت میں گواہی دینے پر آمادگی بھی ظاہر کی۔

یہ بھی پڑھیے

نااہلی معطل کرنے سے متعلق خواجہ آصف کی استدعا مسترد

عوام خواجہ آصف کے سائے کو بھی ووٹ دے گی، مریم نواز

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top