تازہ ترین
جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پاناما کیس کی پہلی سماعت شروع

جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پاناما کیس کی پہلی سماعت شروع

اسلام آباد: (17جولائی،2017)سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے، جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کے بعد یہ پہلی سماعت ہے۔ بینچ کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل کر رہے ہے، سماعت کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کا بٹن دبائیں 

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے موقع پر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)، فریقین جماعتوں کے رہنماؤں سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔اس موقع پر سکیورٹی کےانتہائی سخت انتظامات کیےگئے ہیں۔ پولیس کے سینکڑوں اہلکار عدالت عظمیٰ کے اطراف سیکیورٹی کے لیے مامور ہیں جب کہ کسی غیر متعلقہ شخص کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

سماعت کے آغاز پر پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے، شریف خاندان نے دعویٰ کیا تھا کہ گلف اسٹیل 33ملین درہم میں فروخت ہوئی جبکہ جےآئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان حلفی کو گمراہ کن جھوٹا قرار دیا ، اس کے علاوہ 14 اپریل 1990کے معاہدے کو جے آئی ٹی نے خود ساختہ قرار دیا ہے۔

نعیم بخاری نے مزید کہا کہ معاہدے میں طارق شفیع کی نمائندگی شہبازشریف نے کی تھی، جے آئی ٹی نے یواےای میں قانونی معاونت حاصل کی، طارق شفیع اور حسین نواز کے بیانات میں تضاد پایا گیا، شہباز شریف نے خود کو معاملے سے ہی الگ کرلیا، جے آئی ٹی نے 12 ملین درہم کی قطری سرمایہ کاری کو افسانہ قرار دیا ہے۔

 پی ٹی آئی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ  شہباز شریف بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کا بیان ایسا تھا جیسے پولیس افسروں کے سامنے ریکارڈ کیا گیا ہو، شہبا زشریف کے بیان کا دائرہ کار کیا ہوگا، اس کا جائزہ ضابطہ فوجداری کے تحت لیا جاسکتا ہے۔

نعیم بخاری دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ التوفیق کمپنی کے فیصلے میں الثانی خاندان کا ذکر نہیں،جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں قطری خاندان کا ذکر کیوں ہوتا، نعیم بخاری نے کہا عدالت فیصلہ کرے نا اہل کرنیوالے ججز کے ساتھ اتفاق کرنا ہے یا نہیں ؟، جسپر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ نا اہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا، جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا جے آئی ٹی کو سعودی عرب سے قانونی معاونت نہیں ملی، رپورٹ میں ذرائع کی معلومات کا بھی ذکر کیا، جسٹس اعجٓز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا ذرائع کی دستاویزات مصدقہ ہیں؟، نعیم بخاری نے کہا وہ دستاویزات تصدیق شدہ نہیں لیکن جے آئی ٹی نے درست قرار دیں۔

نعیم بخاری نے مزید کہا کہ وزیراعظم جدہ اسٹیل ملز کی فروخت کی دستاویزات دینے میں نا کام رہے، جدہ فیکٹری 63 ملین کے بجائے 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی، جے آئی ٹی نے قرار دیا کہ حسین نواز جدہ مل کے اکلوتے مالک نہیں تھے، عباس شریف اور رابعہ شہباز بھی جدہ فیکٹری کے حصہ دار تھے۔

انہوں نے کہا کہ دوستوں سے قرض لینا بھی ثابت نہیں ہوا، نواز شریف نے حسین نواز کو 7.5 لاکھ ریال سعودی اکاؤنٹ سے بھیجے، جے آئی ٹی کو ہل میٹل آڈٹ رپورٹ بھی نہیں دی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے دستاویزات استعمال کیں، جن دستاویزات پر انحصار کیا گیا وہ تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

بعد ازاں پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شریف خاندان اپنے دفاع ناکام ہوگیا ہے لہذا نوازشریف پر جرح کرنے کا موقعہ دیا جائے۔ جس پر اعجاز افضل مسکرادئیے، جواب میں نعیم بخاری نے کہا کہ آپ کی مسکراہٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ میری بات سے آپ مطمئن نہیں، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم جے آئی ٹی کے فیکٹ فائنڈنگ پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہے۔ کیا جے آئی ٹی کو ملنے والی دستاویزات پر عدالت فیصلہ کر سکتی ہے؟ ۔بعد ازاں نعیم بخاری نے اپنے دلائل مکمل کرلئے۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top