تازہ ترین
اصغرخان عملدرآمد کیس: چار ہفتے میں انکوائری مکمل کرنے کاحکم

اصغرخان عملدرآمد کیس: چار ہفتے میں انکوائری مکمل کرنے کاحکم

اسلام آباد:(11 فروری 2019) سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں ملوث افسران کےخلاف چار ہفتے میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دےدیاہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ فوجی افسران کے خلاف وزارت دفاع نے کورٹ مارشل کے لیے کارروائی کیوں شروع نہیں کی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد معاملہ آگے چلے گا، فراڈ ہو یا قومی خزانے کو نقصان پہنچے تو کسی بھی وقت کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اس موقع پر کہا کہ اصغر خان کیس میں 28 سال پہلے 184 کروڑ روپے کی رقم استعمال ہوئی تھی،بینچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا بانی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے، کیس میں ان کا نام سامنے آیا نا ہی ایف آئی اے رپورٹ میں۔

اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں بانی ایم کیو ایم کا نام تھا، وہ پاکستان میں نہیں ہیں اس حوالے سے برطانوی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بانی ایم کیو ایم اور چند دیگر ملزمان کی حوالگی کے لیے بات چیت جاری ہے، بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔

بعد ازاں عدالت نے چار ہفتے کے اندر ملوث افسران کے خلاف انکوائری مکمل کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top