تازہ ترین
پاناما کیس کا فیصلہ محتاط ہوکر دیا، سپریم کورٹ

پاناما کیس کا فیصلہ محتاط ہوکر دیا، سپریم کورٹ

اسلام آباد: (13 ستمبر 2017) سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پاناماکا فیصلہ بہت محتاط ہو کر دیاہے، اور اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کوئی دوسرا ٹرائل متاثر نہ ہو۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے شریف خاندان کی جانب سے دائر نظرثانی اپیلوں کی سماعت کی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث اور حسن، حسین اور مریم نواز کی جانب سے سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔لارجر بینچ نے کیس کی سماعت دو حصوں پر کی، ساڑھے گیارہ بجے نظر ثانی کیس میں وقفہ کیا گیا،آدھے گھنٹے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجاز افضل نے خواجہ حارث کے دلائل کواکیڈمک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیس کے دوسرے نکات پر بات کریں ،جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو کیپیٹل ایف زیڈ ای کے تحت نااہل قرار دینے سے قبل قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ،جبکہ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اقلیتی فیصلہ نواز شریف کی تقاریر کی بنیاد پر ہوا ، تین ججوں نے انہیں اخلاقی نہیں قانونی نقطہ پر نااہل کیا۔

 خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے اور صادق اور امین کے تحت نااہلی کے لئے الگ قانونی تقاضے ہیں ۔ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دینا درست نہیں، اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ دس ہزار درہم ارب پتی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔اس پر سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف نے اپنے بیٹے سے کبھی تنخواہ وصول ہی نہیں کی ،اور اس معاملے پر استغاثہ اور جے آئی ٹی نے بھی تنخواہ وصول کرنے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر وصول شدہ تنخواہ اثاثہ ہوتی ہے ، ہم نے پاناما فیصلہ بہت محتاط ہو کر دیا ہے،اور اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کوئی دوسرا ٹرائل متاثر نہ ہو ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی، کل بھی وزیراعظم کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے ۔وقفے سے قبل وزیراعظم نواز شریف کے وکیل ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے اپنے اعتراض میں کہا کہ پاناما کیس کے حتمی فیصلے میں تین رکنی بینچ کے دو جج فیصلہ دے چکے تھے ، یہ جج دوبارہ پانچ رکنی بینچ میں کیوں بیٹھے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی جانب سے دو ممبران کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا اس کا مطلب یہ ہے آپ نے فیصلہ قبول کیا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اقلیتی فیصلے کی قانونی اہمیت نہیں ہوتی اس لئے اسے چیلنج نہیں کیا گیا۔جس پر خواجہ حارث بولے کہ فیصلے کی کوئی قانونی حثیت نہیں تھی ، قانون کے مطابق اثاثے نہ بتانے پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے ،مگر کامیاب امیدوار کو نااہل نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ قانون میں باسٹھ ایف ۔ ون کے تحت نااہلی کا طریقہ مختلف ہے۔خواجہ حارث کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دینا بهی قانون کے مطابق نہیں ، حالیہ فیصلے پر تحقیقات اور ٹرائل پر مانیٹرنگ جج کی تعیناتی کی کہیں مثال نہیں ملتی ، کیونکہ نگران جج تحقیقات کی نگرانی کرنے والے بینچ کا حصہ تهے ، ان کی تعیناتی سے نواز شریف کے حقوق متاثر ہوئے ۔جس پرجسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ تحقیقات پر ٹرائل ہونا ہے ۔ ٹرائل کورٹ میں شواہد اور جے آئی ٹی ممبران پر جرح کا مکمل موقع ملے گا ، جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ بیس اپریل کے فیصلے پر تمام ججز کے دستخط تھے ، اختلاف صرف جے آئی ٹی کی تشکیل پر تھا ، پھر اٹھائیس جولائی کو سب ججوں نے حتمی فیصلہ دیا ، بیس اپریل کو نااہل کرنے والوں نے اٹھائیس جولائی کو کچھ نہیں کہا ، ایسی کئی عدالتی مثالیں موجود ہیں ۔

دوران سماعت خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے جے آئی ٹی ارکان کے فیصلے میں تعریفیں بھی کیں اور اس معاملے میں سپریم کورٹ شکایت کنندہ بن گئی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعریفیں تو ہم نے آپ کی بھی کافی کی ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میری تعریف بے شک فیصلے میں حذف کردیں۔

یہ بھی پڑھئے

نگران جج کی تعیناتی سےشفاف ٹرائل کیسے ہو گا؟؟ وکیل سابق وزیراعظم

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کی جانب سے نیب کیخلاف درخواست سپریم کورٹ میں جمع

Comments are closed.

Scroll To Top