تازہ ترین
زینب زیادتی قتل کیس :سپریم کورٹ کا آئی جی پنجاب کو 72گھنٹوں کی مہلت

زینب زیادتی قتل کیس :سپریم کورٹ کا آئی جی پنجاب کو 72گھنٹوں کی مہلت

لاہور(21جنوری،2018)سپریم کورٹ کے فل بینچ نے زینب کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے آئی جی پنجاب کو بہتر گھنٹوں کی مہلت دے دی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے آئی جی پنجاب کو حکم دیاہے کہ 72گھنٹوں میں ملزم کی گرفتاری کے لئے ترجیح بنیادوں پر جوکرسکتے ہیں کریں.

سپریم کورٹ نےزینب قتل کیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صرف ایک ہی رخ پر تفتیش کررہی ہے جبکہ جسٹس منظور ملک نے کہا کہ  پولیس کوڈی این اے سے باہر نکل کر بھی تفتیش کرنی چاہیے۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلے کابٹن دبائیں

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کی زینب زیادتی اور قتل کے ازخود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ختم ہوگئی ہے۔

چیف جسٹس کے علاوہ بینچ کے دیگر ججوں میں جسٹس منظور ملک اور جسٹس اعجاز الحسن شامل تھے۔

زینب زیادتی قتل کیس کی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کے سربراہ محد ادریس نے کہا ہم نے 800 کے قریب مشتبہ افراد کے ڈی این اے کر لئے ہیں۔ جن میں سے8ڈی این اے ٹیسٹ میں دستخط میچ ہوئے ہیں۔

اس پر جج جسٹس منظور ملک نے کہا آپ صرف ایک ہی رخ پر تفتیش کر رہے ہیں،پولیس کے پاس تفتیش کے مزید روایتی طریقے بھی ہیں۔ عدالت کاکہناتھا کہ جس طریقے پر آپ کام کرہے ہیں اس طرح تو 21کروڑ لوگوں کا ڈی این اے کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا ڈی این اے سے باہر نکل کر بھی تحقیقات کرنی چاہیے،اگر پولیس 2015 میں اتنی سنجیدہ ہوتی تو آج 8بچیاں زیادتی کے بعد قتل نہ ہوتیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلےکا بٹن دبائیں

معزز جج نے کہا ہم جانتے ہیں کہ پولیس اپنا روایتی طریقہ استعمال کرے تو ملزم تک پہنچاجاسکتا ہے۔ان کاکہناتھا کہ زیادتی کے 8مقدمات کے حالات وواقعات یکساں ہیں تو اس رخ پر بھی تفتیش کریں۔

یہ بھی پڑھیے:

 

نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش

Comments are closed.

Scroll To Top