تازہ ترین
سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کردیا

سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کردیا

لاہور: (12 جنوری 2018) سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نیا ڈھانچہ بنانے کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نجی میڈیکل کالجز سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پی ایم ڈی سی سے متعلق سردار لطیف کھوسہ کی طرف سے دائر اپیل کو منظور کیا جبکہ پی ایم ڈی سی کے وکیل کی جانب سے کونسل کو کام جاری رکھنے سے متعلق اپیل مسترد کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرنے کا حکم دیا۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر عبوری کمیٹی بنائی جائے، جس کی سربراہی جسٹس (ر) شاکر اللہ جان کریں گے۔

عبوری کمیٹی میں اسلام آباد اور چاروں صوبوں سے میڈیکل کالجز کے وائس چانسلرز (وی سی) شامل ہوں گے جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان بھی عبوری کمیٹی کا حصہ ہوں گے،عبوری کمیٹی سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں کی جانچ پڑتال کرے گی۔ عبوری کمیٹی پی ایم ڈی سی کے نئے انتخابات کرانے کی ذمہ دار بھی ہوگی، چیف جسٹس کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ تمام امور کی خود نگرانی کروں گا۔

گذشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کا ریکارڈ طلب کیا تھا، چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ تمام کالجز کا دورہ کیا جائے گا اور معیار پر پورا نہ اترنے والے کالج بند کردیئے جائیں گے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز کو ختم نہیں کرنا چاہتے ، مگر میڈیکل کالجز کو کاروباری ادارہ نہیں بننا چاہئے، کیونکہ یہ کالجز پبلک سیکٹر کا بوجھ بانٹ رہے ہیں، یہ نہ سمجھا جائے کہ چند میڈیکل کالجز کی انسپیکشن ہو گی ، میں خود ایک ایک میڈیکل کالج کا دورہ کروں گا۔اس موقع پر اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں کی ، بس آئین میں دیئے گئے اختیارات کے اندر کام کر رہے ہیں ، میرے میئو ہسپتال کا دورہ کرنے پر بہت تنقید کی گئی ، مگر واضح کرتا چلوں کہ زندہ رہنے کے بنیادی حق کا جہاں مسئلہ ہو گا وہیں پہنچوں گا، یہ میرا آئینی حق ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے ، ہم پارلیمنٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ کتنے دن میں قانون بنائے، انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر آپ کابینہ یا وزیراعظم کو بریفنگ دے رہے ہیں تو انہیں بتائیں یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے ، اس مسئلہ کے حل کے لئے فوری قانون سازی وقت کی ضرورت ہے ، کیونکہ قانون سازی کرنا حکومت کا ہی کام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پانچ لاکھ ڈاکٹر درکار ہیں عطائی نہیں، ایسے ماہر سرجن درکار ہیں جو آپریشن کریں ایسے ڈاکٹر نہیں چاہیئے جو داتا دربار سے نشئی اٹھا کر لے جائیں اور گردہ نکال کر عربی کو بیچ دیں، ان خرابیوں پر قابو پانے کے لئے آپ ہماری معاونت کریں ۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ میں نے کل کابینہ کو پی ایم ڈی سی آرڈیننس اور میڈیکل کالجز پر بریفنگ دی ،حکومت اس معاملے پر اہم فیصلے کرے گی۔جس پر پی ایم ڈی سی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکومت نے ہر ادارے کو قابو میں کر رکھا ہے ، پارلیمنٹ اس پر قانون سازی نہیں کرے گی ، یہ معاملہ سینیٹ میں پہلے بھی اٹھایا گیا تھا ، سینیٹ میں اس کی شدید مخالفت کی گئی تھی، کہا گیا یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کی شوگر ملز منتقل کرنے کا حکم معطل کردیا

معصوم زینب کے قتل پر مذمتی قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پی ایم ڈی سی کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز کو ختم نہیں کرنا چاہتے ، مگر میڈیکل کالجز کو کاروباری ادارہ نہیں بننا چاہئے، کیونکہ یہ کالجز پبلک سیکٹر کا بوجھ بانٹ رہے ہیں، یہ نہ سمجھا جائے کہ چند میڈیکل کالجز کی انسپیکشن ہو گی ، میں خود ایک ایک میڈیکل کالج کا دورہ کروں گا۔اس موقع پر اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں کی ، بس آئین میں دیئے گئے اختیارات کے اندر کام کر رہے ہیں ، میرے میو ہسپتال کا دورہ کرنے پر بہت تنقید کی گئی ، مگر واضح کرتا چلوں کہ زندہ رہنے کے بنیادی حق کا جہاں مسئلہ ہو گا وہیں پہنچوں گا، یہ میرا آئینی حق ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے ، ہم پارلیمنٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ کتنے دن میں قانون بنائے، انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر آپ کابینہ یا وزیراعظم کو بریفنگ دے رہے ہیں تو انہیں بتائیں یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے ، اس مسئلہ کے حل کے لئے فوری قانون سازی وقت کی ضرورت ہے ، کیونکہ قانون سازی کرنا حکومت کا ہی کام ہے۔

اس سے قبل نجی کالجز کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پاکستان کو اس وقت پانچ لاکھ ڈاکٹرز درکار ہیں، جبکہ ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد ایک لاکھ چونسٹھ ہزار ہے جن میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعداد سینتالیس ہزار سے زائد ہے ، اس کے علاوہ پچیس ہزار اسپیشلسٹ ڈاکٹر بیرون ملک ملازمت کر رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پانچ لاکھ ڈاکٹر درکار ہیں عطائی نہیں، ایسے ماہر سرجن درکار ہیں جو آپریشن کریں ایسے ڈاکٹر نہیں چاہیئے جو داتا دربار سے نشئی اٹھا کر لے جائیں اور گردہ نکال کر عربی کو بیچ دیں، ان خرابیوں پر قابو پانے کے لئے آپ ہماری معاونت کریں ۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ میں نے کل کابینہ کو پی ایم ڈی سی آرڈیننس اور میڈیکل کالجز پر بریفنگ دی ،حکومت اس معاملے پر اہم فیصلے کرے گی۔جس پر پی ایم ڈی سی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکومت نے ہر ادارے کو قابو میں کر رکھا ہے ، پارلیمنٹ اس پر قانون سازی نہیں کرے گی ، یہ معاملہ سینیٹ میں پہلے بھی اٹھایا گیا تھا ، سینیٹ میں اس کی شدید مخالفت کی گئی تھی، کہا گیا یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ نے شریف خاندان کی شوگر ملز منتقل کرنے کا حکم معطل کردیا

معصوم زینب کے قتل پر مذمتی قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع

Comments are closed.

Scroll To Top