تازہ ترین
صحافی کی گمشدگی ترکی اور سعودیہ تعلقات کیخلاف سازش ہو سکتی ہے، ترکی

صحافی کی گمشدگی ترکی اور سعودیہ تعلقات کیخلاف سازش ہو سکتی ہے، ترکی

انقرہ: (10 اکتوبر 2018) ترکی نے ان خبروں کی سختی کے ساتھ تردید کردی کہ اس نے صحافی جمال خشوگی کے لاپتا ہونے پر سعودی عرب پر کوئی الزام عائد کیا ہے۔ اس معاملے میں تیسرے فریق کا وجود خارج از امکان نہیں۔ دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ نے سعودی عرب سے سعودی صحافی کے گم شدہ ہونے پر جواب طلب کرلیا ہے۔

ترک صدر طیب اردگان کے مشیر یاسین اقطائے نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں اختلافات جنم لینے کے لیے صحافی کی گم شدگی سازش کا حصہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس بات کا امکان بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کارروائی کسی تیسرے فریق نے کی ہو۔ مشیر نے خشوگی کے معاملے کے حوالے سے افواہوں کی بھی تردید کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے نے سعودی صحافی کے قتل کے حوالے سے جو بتایا وہ کسی صورت ترکی کا کوئی سرکاری بیان نہیں۔ترک مشیر نے زور دے کر کہا کہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی تاریخی بنیادیں ہیں۔ خشوگی کے معاملے سے یہ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ ادھر برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے بذریعہ فون رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اسی صورت بہتری کی جانب گامزن ہوں گے جب خشوگی کے لاپتا ہونے کی معلومات ان سے شئیر کی جائیں۔برطانوی وزیرخارجہ کے مطابق سعودی صحافی کے حوالے سے متضاد باتیں گردش میں ہیں اور جو کچھ کہا جارہا ہے اگر وہ درست ہے تو برطانیہ اس معاملے پر حادثہ کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔ ادھر جمال خشوگی کی منگیتر نے امریکی انتظامیہ سے مدد کی درخواست کردی ہے۔ جمال خشوگی دو اکتوبرسے ترک شہر انقرہ سے لاپتا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جمال خشوگی کے اغوا اور قتل کی رپورٹس من گھڑت ہیں، شہزادہ خالد بن سلمان

Comments are closed.

Scroll To Top