تازہ ترین
راؤ انوار کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار

راؤ انوار کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار

اسلام آباد : (21 مارچ 2018) سپریم کورٹ کے حکم پر سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو ماہ کی مفروری کے بعد سابق ایس ایس پی ملیر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے راؤ انوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آُپ تو بہادر ہیں اتنے دن کہاں تھے؟ ہم نے موقع فراہم کیا تو کیوں نہیں سرنڈر کیا،اس پر راؤ انوار عدالت کے سامنے خاموش کھڑے رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

راؤ انوار کے وکیل نے جواب دیا کہ ان کے مؤکل حفاظتی ضمانت چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کوئی حفاظتی ضمانت نہیں دے رہے اور گرفتاری کے احکامات جاری کررہے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم کمیٹی بنارہے ہیں، راؤ انوار کو جوکچھ کہنا ہے وہ اس کے سامنے جاکر کہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس طرح آپ کی پولیس آپ کے مخالف ہوگئی، آپ اس پولیس کے ملازم ہیں اور وہی پولیس آپ کے مخالف ہوگئی۔

معطل ایس ایس پی کے وکیل نے استدعا کی کہ کمیٹی میں ایجنسیز کو شامل کیا جائے، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کون سی ایجنسی کو شامل کیا جائے؟راؤ انوار کے وکیل نے کہا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کو کمیٹی میں شامل کیا جائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیس سیدھا سیدھا ہے ان کا تفتیش سے کیا تعلق؟ مجھے معلوم ہے آپ یہ کس وجہ سے کہہ رہے ہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتیں آزاد ہیں اور کسی کا اثر نہیں لیتی۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کیا اور وقفے کے بعد ایک بار پھر سماعت کا آغاز کرتے ہوئے راؤ انوار کے بینک اکاؤنٹس غیر منجمد کرنے کا حکم دیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

عدالت نے راؤ انوار سے تفتیش کے لیے ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی جس میں چار اعلیٰ پولیس افسران ولی اللہ دل، آزاد خان، ذوالفقار لاڑک اور ڈاکٹر رضوان کو شامل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے کراچی میں ماؤرائے عدالت قتل کئے جانے والے نقیب اللہ سمیت دیگر دو کیسز میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔

تھوڑی دیر قبل نقیب اللہ قتل کیس میں مفرور سابق ایس ایس پی ملیر اچانک سپریم کورٹ پہنچے اور عدالت عظمیٰ کے سامنے پہنچتے ہی انہوں نے اپنے چہرے سے نقاب اتارا ، راؤ انوار سفید رنگ کی کرولا میں عدالت پہنچے تھے اور انکی گاڑی احاطہ عدالت تک گئی۔راؤ انوار گزشتہ کئی ماہ سے عدالت کو مطلوب تھے، ان پر کراچی میں ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے نقیب اللہ کو قتل کرنے کا الزام ہے ۔

واضح رہے کہ انیس مارچ کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ راؤ انوار عدالت آجائے گا تو انہیں تحفظ مل جائے گا اور وہ بچ جائے گا، مگر ہم اس کے سہولت کاروں کو جان کر رہیں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اس سے قبل سولہ مارچ کو ہی انسداد دہشتگردی منتظم عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس کی جانب سے حتمی چالان جمع کرایا گیا تھا،جس میں سابق ایس ایس پی راؤانوار، امان اللہ مروت، گداحسین اور شعیب عرف شوٹر سمیت 15 سے زائد ملزمان کو مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔

نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت میں اب تک کیا ہوا

سولہ فروری کو سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سابق ایس ایس ملیر راؤ انوار کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے تمام اکائونٹ منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔

تیرہ فروری کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے ہیومن رائٹ سیل کو سابق ایس ایس پی راؤ انوار کا خط موصول ہوا ہے، اگر یہ خط واقعی راؤ انوار کا ہے تو عدالت انہیں موقع دیتی ہے کہ وہ خود آئندہ جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوکر اپنا مؤقف دیں، سندھ پولیس اور اسلام آباد پولیس ان کی حفاظت کرے اور انہیں گرفتار نہ کیا جائے لیکن یہ تمام احکامات راؤ انوار کی عدالت میں آمد سے مشروط ہوں گے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اکتیس جنوری کو سندھ پولیس نے معطل ایس ایس پی راؤ انوار سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، آئی جی سندھ نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ راؤ انوار کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انتیس جنوری کو نقیب اللہ قتل کیس میں مفرور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو ان کے عہدے سے معطل کردیا گیا تھا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر ملک الطاف کو بھی معطل کیا گیا تھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اٹھائیس جنوری کو نقیب اللہ محسود کیس میں نامزد ملزم سابق ایس ایس پی راﺅ انوار کی گرفتاری کیلئے سندھ پولیس نے حساس اداروں سے مدد طلب کرتے ہوئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے حساس اداروں کو خط لکھا تھا،خط میں حساس اداروں سے درخواست کی گئی تھی کہ ملزم کو سپریم کورٹ میں پیش کرنا ہے، اس لیے مدد کی جائے،خط ڈی جی آئی ایس آئی، ایم آئی اور ڈی جی آئی بی کے نام بھیجا گیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

پچیس جنوری کو سندھ پولیس نے راؤ انوار کے قریبی ساتھی اور احسن آباد کے چوکی انچارج ہدایت شر کو حراست میں لیا تھا جبکہ راؤ انوار کی جگہ چارج سنبھالنے والے نئے ایس ایس پی ملیر عدیل چانڈیو نے ضلع ملیر کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے کی حکمت عملی کے تحت سابق ایس ایس پی کے خاص ساتھیوں میں شمار ہونے والے اے ایس آئی راؤ فیصل اور پانچ ہیڈ کانسٹیبلز کو ملیر سے فارغ کر دیا تھا۔

چوبیس جنوری کو نقیب اللہ محسود کے ساتھ جعلی مقابلے میں جاں بحق دوسرے نوجوان کی شناخت ہوئی، نذرجان بحریہ ٹاؤن کراچی میں لوڈر کا کام کرتا تھا۔

تئیس جنوری  کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے خلاف نقیب قتل کیس کا مقدمہ نقیب کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں 365، 302، 109، 344، 34 اور 7 اے ڈی اے کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار، ہیڈ محرر، سب انسپکٹر اور ایس ایچ او سمیت 8 سے 9 اہلکاروں کے ملوث ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔

تئیس جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر نے ملک سے فرار ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کراچی میں ہوں، نہ کسی سے ڈر کر بھاگا ہوں نہ بھاگوں گا۔

برطرف ایس ایس پی ملیر راؤانوار نے دبئی فرار کی کوشش کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا اور کہا کہ میں کہیں بھی فرار ہونے کی کوشش نہیں کر رہا، مجھ سےمتعلق غلط خبریں چلائی جارہی ہیں، اس سے قبل راولپنڈی ائیرپورٹ پرایف آئی اے نے راؤ انوار کو دبئی جانے سے روک دیا تھا اور پروازای کے615 سےآف لوڈ کردیا تھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

بیس جنوری  کو نقیب اللہ کیس میں تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹادیا گیا تھا جبکہ راؤانوار کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

دوسری جانب سندھ پولیس کی جانب سے ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ نقیب کے دہشت گرد ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں،ابتدائی رپورٹ کے مطابق راؤ انوار نے نقیب کے غیر شادی شدہ ہونے کا غلط دعویٰ کیا اور دیگر دعوے بھی غلط ثابت ہورہے ہیں۔ راؤ انوار کی نقیب کے خلاف 2014 کی ایف آئی آر بھی بوگس ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انیس جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک شہری نقیب اللہ محسود قتل کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے نقیب اللہ محسود کا کرمنل ریکارڈ پیش کیا جس میں ایف آئی آر اور چالان بھی شامل تھا۔

اٹھارہ جنوری کو نقیب اللہ قتل کیس کے معاملے پر ایس ایس پی ملیرراؤ انوار نے تفصیلات جاری کی تھی۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے تفصیلات میں کہا ہے کہ شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے میں ہلاک ملزم کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔ نقیب اللہ ساؤتھ وزیرستان میں کمانڈر تھا۔ ملزم نقیب اللہ گلشن ویو اپارٹمنٹ ابوالحسن اصفہانی روڈ سہراب گوٹھ کا رہائشی تھا۔ ملزم ڈی آئی خان جیل توڑنے میں بھی ملوث تھا۔

راؤ انوار نے تفصیلات میں بتایا کہ ملزم 2004ء سے 2009ء تک بیت اللہ محسود کا گن مین رہا۔ ملزم نے مدرسہ بہادر خیل مکین سے تعلیم حاصل کی۔ ملزم کا بہنوئی شیر داؤد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر ہے۔ نقیب اللہ نے میران شاہ میں کالعدم تحریک طالبان کے کیمپ میں 2007ء سے 2008ء تک استاد علی سے ٹریننگ حاصل کی۔راؤ انوار کے مطابق نقیب اللہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ثناء اللہ محسود کا قریبی ساتھی تھا۔ نقیب اللہ نے ایف سی کے صوبیدار محمد عالم کو شہید کیا تھا۔ ملزم نے 2009ء میں بہنوئی شیر داؤد کے ساتھ مل کر مکین میں پاکستان فوج پر حملہ کیا، جس میں متعدد فوجی شہید ہوئے۔راؤ انوار کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملزم نے 2009ء میں اپنے رشتہ دار اعجاز محسود کو قتل کیا۔ ملزم نے اپنے ساتھی ثناء اللہ اور بہنوئی شیر داؤد کے ساتھ مل کر منگھوپیر میں دو پولیس اہلکاروں کو شہید کیا۔ ملزم کارساز پر شہید بے نظیر بھٹو پر بم حملے میں ملوث ملزم کالعدم تحریک طالبان پاکستان وہاب کا قریبی ساتھی تھا۔ ملزم کراچی میں جعلی شناختی کارڈ بنوا کر رہائش پذید رہا تھا۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال کو 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود کی کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے واقعے کی انکوائری کا حکم دیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

دوسری جانب ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے اب تک نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نقیب اللہ نے نسیم اللہ کے نام سے شناختی کارڈ بنوا رکھا تھا، جو پولیس کو مطلوب تھا، وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے آیا تھا اور حب میں رہائش پذیر تھا۔

ایس ایس پی ملیر نے بتایا کہ یہ لوگ کراچی آکر یا تو فیکٹریوں میں ملازمت کرتے ہیں یا پھر کہیں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرلیتے ہیں اور پھر مختلف جرائم کرتے ہیں۔ راؤ انوارکا مزید کہنا تھا کہ نقیب اللہ مجھ پر حملے میں ملوث ہی نہیں تھا یہ پہلے ہی مارا جا چکا تھا ، سہراب گوٹھ میں جرائم پیشہ افراد مختلف سیاسی جماعتوں کا سہارا لئے بیٹھے ہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ راؤ انوار سے نقیب کیس کے بارے میں پوچھنا چاہیے، ایک ہفتہ میں نقیب کو دہشت گرد قرار دے کر مار دیا گیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ملیر راؤ انوار نے میڈیا سے گفتگو میں کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران چار دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والا نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

سولہ جنوری کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ملیر کینٹ کے قریب ایس ایس پی راؤ انوار کی گاڑی پر حملہ کیا گیا ہے، جس میں راؤ انوار محفوظ رہے تھے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکش حملہ قرار دیا جس کے مطابق بکتر بند گاڑی سے کوئی ٹکرایا جس کے بعد دھماکا ہوگیا۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top