تازہ ترین
عدالتی فیصلے کے خلاف طاہر القادری کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

عدالتی فیصلے کے خلاف طاہر القادری کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

لاہور: (26 ستمبر 2018) عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور آج بھی طاقتور اور انصاف کمزور ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سوشل میڈیا کے زریعے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سربراہ پاکستان عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ جب تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے منصوبہ ساز طلب نہیں ہوں گے تو انصاف کیسے ہوگا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ کیا سترہ جون دوہزار چودہ کے دن انسان نہیں چیونٹیوں کو مارا گیا تھا اور پولیس کی دہشتگردی میڈیا کے ذریعے پوری دنیا نے دیکھی تھی۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا ثابت ہوا کہ طاقتور آج بھی طاقتور اور انصاف کمزور ہے۔

واضح رہے کہ آج لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے نوازشریف ،شہبازشریف اورسابق وزراکی طلبی سے متعلق عوامی تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔

فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف، سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف اور سابق وزراءکی طلبی سے متعلق عوامی تحریک کی درخواست خارج کرتے ہوئے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ دو ایک کی اکثریت سے آیا، جسٹس سرداراحمد نعیم اور جسٹس عالیہ نیلم نےدرخواستیں مسترد کیں جبکہ فل بینچ کےسربراہ جسٹس قاسم خان نے اختلافی نوٹ لکھا۔

عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف،شہبازشریف ،خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید،خواجہ آصف ،توقیر شاہ اعظم سلمان اوردیگرکو بے قصور قراردیتے ہوئے عوامی تحریک کی درخواست خارج کردی جبکہ عدالت نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے ستائیس جون کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،درخواست گزار کے وکلا نے دلائل میں کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاون ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس میں میاں نوازشریف اور شہباز شریف سمیت (ن) لیگ کی اعلی سیاسی شخصیات شامل تھیں۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے انسداد دہشت گردی عدالت میں استغاثہ دائر کیا گیا جس میں ان تمام سیاسی شخصیات کو فریق بنایا گیا مگر عدالت نے ان کو طلب نہیں کیا اور محض پولیس افسران کو ہی نوٹس جاری کیے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

منہاج القرآن کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کا کہنا تھا کہ ثبوتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف ، شہباز شریف ، رانا ثنااللہ ، خواجہ آصف، چوہدری نثار ، خواجہ سعد رفیق سمیت ن لیگی رہنما ہی اس قتل عام کے ماسٹر مائنڈ ہیں لہذا عدالت حکم دے کہ ان تمام شخصیات کو طلب کیا جائے۔

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا ازخود نوٹس لے کر ہائی کورٹ کو دوہفتوں میں سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل رپورٹ شائع

یاد رہے کہ پانچ دسمبر دوہزار سترہ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل رپورٹ پنجاب حکومت کی ویب حکومت سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی تھی، جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز رضوی، جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے حکومتی اپیل مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو شائع کرنے کا حکم دے دیا۔ فل بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لواحقین کو 3 روز میں کاپی فراہم کی جائے اور 30 دن کے اندر انکوائری رپورٹ سرکاری طور پر شائع کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کاٹرائل غیرجانبدارانہ اور شفاف کیا جائے۔

خیال رہے انیس ستمبر کو سربراہ پی اے ٹی ڈاکٹر طاہر القادری نے وطن واپسی پر تحریک انصاف کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا دے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے راستے میں ایک سو سولہ پولیس افسر رکاوٹ ہیں۔

واضح رہے کہ جون دوہزار چودہ میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جامع منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا، جس میں خواتین سمیت چودہ افراد جاں بحق جب کہ نوے افراد زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل رپورٹ شائع کردی گئی

ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کو انصاف دلانے کیلئے عوامی تحریک کا ساتھ دیں گے، عمران خان

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top