تازہ ترین
پی ٹی وی حملہ کیس: تفتیشی افسر کو عمران خان کابیان ریکارڈ کرنے کا حکم

پی ٹی وی حملہ کیس: تفتیشی افسر کو عمران خان کابیان ریکارڈ کرنے کا حکم

اسلام آباد: (24 نومبر 2017) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ اداروں پر حملوں کا اصل مجرم نواز شریف ہے، اور مجرم کو پارٹی کا سربراہ بنانا کون سی جمہوریت ہے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس سمیت چار مقدمات کی سماعت کی ، عمران خان کے وکیل بابراعوان نے حاضری سے استثنی کی درخواست دی جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے پوچھا کیاضمانت قبل ازگرفتاری میں استثنی کی درخواست دی جا سکتی ہے؟ بابر اعوان نے موقف اپنایا کہ استثنی مل سکتی ہے جبکہ سرکاری وکیل نے مخالفت کی۔

سماعت کےدوران ہی عمران خان جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، جس پر انسداد دہشت گردی نے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے اور چاروں مقدمات میں بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت سات دسمبر تک ملتوی کر دی، دوران سماعت عمران خان نے فاضل جج سے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں بہت بڑا ڈاکو ہوں جس پر فاضل جج بھی مسکرا ئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ  مظاہرے کو دہشت گردی کہہ کر جمہوریت کو نقصان پہنچایا گیا ، حکومت کی جانب سے بے بنیاد مقدمات بنا کر ہمارا منہ بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عمران خان نے سابق وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان کا تین سو ارب روپیہ لوٹا اور اب عدالتوں میں اپنے دفاع کی بجائے عدالتوں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔قومی اسمبلی میں نا اہل شخص کو پارٹی صدر بنانے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ اسمبلی میں ایک سو ساٹھ لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر ایک مجرم کو پارٹی کا سربراہ بنایا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نون لیگ کی جانب سے میرا نواز شریف سے موازنہ کرنا سلطانہ ڈاکو سے موازنے کے مترادف ہے،جنرل مشرف کے عدالتوں میں پیش نہ ہونے سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ میرا سوال ہے کہ جنرل مشرف کو کس نے باہر جانے دیا ؟ نواز شریف سے پوچھتا ہوں کہ مشرف کو کیوں نکالا ؟

اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی پی ٹی وی حملہ اور ایس ایس پی تشدد کیس کی سماعت کے سلسلے میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے جہاں دوران سماعت عدالت نے عمران خان کو تفتیش کے لیے پولیس کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ پی ٹی وی حملہ، پارلیمنٹ حملہ اور ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کیس سمیت چاروں مقدمات میں عمران خان کا بیان ریکارڈ کیا جائے، عدلت نے کیس کی مزید سماعت 7 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھئے

ایس ایس پی تشدد کیس:عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ پر فیصلہ محفوظ

ایس ایس پی تشدد:پولیس ملزمان کی جائیداد کی تفصیلات پیش نہ کرسکی

Comments are closed.

Scroll To Top