تازہ ترین
دہشتگردی کےخلاف جنگ پرپاکستان نے دلیل کےساتھ حقیقت بیان کی،وزیراعظم

دہشتگردی کےخلاف جنگ پرپاکستان نے دلیل کےساتھ حقیقت بیان کی،وزیراعظم

نیویارک: (22ستمبر،2017) وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ، پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے ، لیکن افغان عوام کو اس مسئلےکا حل خود ہی نکالنا ہوگا، شاہد خاقان عباسی نے افغانستان میں بھارتی مداخلت ناقابل قبول بھی قرار دےدیا۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ دنیا میں اگر کوئی ملک دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے تو وہ پاکستان ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے لاکھوں فوجی جوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے سربراہان مملکتوں سمیت ہماری یہاں ستائی میٹنگز ہوئیں جن میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا موقف ہر جگہ بڑی وضاحت سے بیان کیا، جس کو ہر جانب سے پذیرائی ملی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے ان کے عشایئے میں غیررسمی گفتگو ہوئی ہے جبکہ نائب امریکی صدر پینس سے بھی تفصیلی ملاقات میں ہم نے امریکہ پر واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے، جس کے لئے افغان اپنے معاملات خود طے کریں اور ہم اس میں معاونت کریں گے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کی خواہش پاکستان سے بڑھ کر کسی کو نہیں لیکن قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر ڈھائی سو سے تین سو صفحات پر مشتمل ڈوزیئر پیش کیا ہے،پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے حقیقت بیان کی کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں ہیں۔صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے بتایا کہ کابینہ میں کوئی ردو بدل نہیں ہورہا جبکہ سول وعسکری قیادت میں اختلافات کی تردید کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سول وعسکری قیادت ایک پیج پر ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

ملیحہ لودھی اور خواجہ آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ یہاں ہماری پاکستان میں انسداد پولیو کے لیے کام کرنے والے بل گیٹس سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ او آئی سی میں روہنگیا سے متعلق اجلاس میں شرکت کی اور ورلڈ بینک کے سی ای او سے بھی ملاقات ہوئی۔واضح رہے کہ امریکی ٹی وی سی این این کوانٹرویومیں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نےکہا تھا کہ پاکستان اورامریکا کےدرمیان سترسال پرانےتعلقات ہیں۔ ان تعلقات کاافغانستان کی موجودہ صورت حال سے تعلق نہیں۔پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑرہاہے۔ پاکستان کی فوج اور شہریوں نےجانوں کانذرانہ پیش کیاہے۔اس وقت بھی پاکستان کےہزاروں فوجی جنگ میں مصروف ہیں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکاکےدرمیان افغان مسئلے اور علاقائی پالیسی پراختلاف ہوسکتا ہے لیکن ہمارادشمن ایک ہے۔ وزیراعظم نے شمالی کوریاکےایٹمی پروگرام میں پاکستانی مدد کی تردید کی ، انہوں نےکہاکہ بھارت پاکستان کیلئےخطرہ ہے۔ دونوں ممالک کےدرمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ پاکستان نےجوہری ہتھیاربھارتی خطرات سےنمٹنےکیلئےتیارکیے۔

اس سے قبل وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی اشتعال انگیزیاں اورمحدود جنگ کے نظریات جاری رہے تواسی کی زبان میں جواب دینگے، وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انکوائری کمیشن بھجوائے جوجنگی جرائم اور انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں کاجائزہ لیکر ذمہ داروں کی سزاکا تعین کرے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے داعش،القاعدہ ،ٹی ٹی پی اورجماعت الاحرارکا خاتمہ کیا جائے اور پرامن تصفیے کیلئے افغان حکومت اورطالبان میں بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔

یہ بھی پڑھئے

نیویارک: بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے، وزیراعظم

نیویارک: مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل بہت ضروری ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

Comments are closed.

Scroll To Top