تازہ ترین
چالیس سال بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو تلوار کا نشان الاٹ

چالیس سال بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو تلوار کا نشان الاٹ

اسلام آباد: (29 مئی 2018) الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے تلوار کا نشان دینے کی استدعامنظورکرلی ہے، فیصلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی چالیس سال بعد تلوار کے نشان پر الیکشن لڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں پانچ رکنی کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کے معاملہ کی سماعت کی، جہاں الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کو چالیس سال بعد تلوار کا انتخابی نشان الاٹ کیا،دوران سماعت صفدر عباسی نے پی پی پی کے نمائندے نئیر بخاری سے کہا کہ وہ حلف دیں کہ انتخابی نشان تلوار حاصل ہونے کے بعد اسے بلاک نہیں کریں گے بلکہ استعمال کریں گے جس پر دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔صفدر عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انیس سو اٹھاسی سے اب تک چار الیکشن تیر کے نشان پر لڑے ہیں، اصل تنازعہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے اندر ہے۔ بلاول اور زرداری ایک ہی جگہ میٹنگ کرتے ہیں یہ دو الگ جماعتیں نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کو پتنگ ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینرعامرخان کی درخواست پر الاٹ کیا گیا، پاکستان کسان اتحاد کو ہل کا نشان جب کہ عوام لیگ کو انسانی ہاتھ کا نشانہ دیا گیا ہے، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کو ستارہ کا نشانہ تفویض کیا گیا ہے۔

جی ڈی اے کے سیکرٹری اطلاعات سردار رحیم کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں جے ڈی اے ایک ہی نشان کے تحت میدان میں اترے گا اور پیر پگارا کی سربراہی میں سندھ میں حکومت بنائے گا۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ق) اپنے انتخابی نشان سائیکل سے دستبردار ہوئی الیکشن کمیشن سے ٹریکٹر کا انتخابی نشان مانگا، جبکہ پاکستان کسان اتحاد نے بھی ٹریکٹر کا انتخابی نشان مانگ رکھا ہے جس پر انتخابی کمیشن نے پہلے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد میں مسلم لیگ (ق) کو ٹریکٹر کا نشانہ الاٹ کر دیا۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نیشنل پارٹی کو آری اورمتحدہ قبائل پارٹی کو پگڑی کا نشان الاٹ کر دیا گیا۔ نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو نے آری کا انتخابی نشان ملنے کی تصدیق کی اور الیکشن کمیشن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں عوامی لیگ اور پاکستان تحریک انسانیت دونوں نے ہاکی کے نشان کی درخواست دی تھی تاہم ہاکی کا نشان عوامی لیگ کو الاٹ کر دیا گیا۔ پاکستان تحریک انسانیت کو کنگھی کا نشان دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف گلالئی کو ریکٹ کا انتخابی کا نشان الاٹ کردیاجس پر پارٹی نے مطلوبہ انتخابی نشان نہ ملنے پر عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے، تحریک انصاف گلائی لئی بلے باز کے نشان کی خواہشمند تھیواضح رہے کہ ا لیکشن ایکٹ کے تحت خواتین کو پانچ فیصد نمائندگی دینے والی اور دیگر قواعد و ضوابط پر پورا اترنے والی پارٹیوں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کمیشن کے پاس درج ایک سو دس سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مطلوبہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے لیے پندرہ مئی 2018 تک اپنی درخواستیں الیکشن کمیشن کو پہنچا دیں۔انتخابی کمیشن نے واضح کیا تھا کہ جو جماعتیں الیکشن ایکٹ 2017 ء کے تحت قواعد پر پوری نہیں اتریں گی انہیں آئندہ عام انتخابات کیلئے انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ترجمان ندیم قاسم کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مردم شماری کے بعد حلقوں کی حدبندی اور انتخابات کے انعقاد کی تیاری کاکام مکمل کرلیاہے۔انہوں نے کہاکہ ریٹرننگ اور پریذائیڈنگ افسران سمیت انتخابی عملے کی تربیت کی جارہی ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے ایک نگران ونگ قائم کیاجائے گا اور ہرحلقے میں نگران افسرتعینات کئے جائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ایک نیا انتخابی قانون منظور کیاگیاہے جس کے تحت ہرامیدوارکے اخراجات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

قومی اسمبلی کی مدت کے آخری 2 دن، کلثوم نواز رکنیت کا حلف نہ اٹھا سکیں

قومی اسمبلی کی آئینی مدت 31 مئی کو مکمل ہوگی

Comments are closed.

Scroll To Top