تازہ ترین
نگران وزیراعظم : پیپلز پارٹی کے نام پر (ن) لیگ متفق

نگران وزیراعظم : پیپلز پارٹی کے نام پر (ن) لیگ متفق

اسلام آباد:(17 مئی 2018) پاکستان پیپلز پارٹی نے نون لیگ کی کمزور پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نگران وزیراعظم کے لئے اپنی جانب سے پیش کردہ نام پر حکمران جماعت کو قائل کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کی بطور نگران وزیراعظم تقرری پر پاکستان مسلم لیگ (ن) متفق ہوگئی ہے، اشتیاق احمد خان کا نام پیپلز پارٹی کی جانب سے دیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کے نام کے لئے اس سے پہلے تصدق حسین جیلانی کا نام بھی زیر غور تھا اس کے علاوہ نون لیگ نے ڈاكٹر حفیظ پاشا کا نام بھی تجویز کیا تھا، جسے پیپلز پارٹی نے مسترد کردیا تھا۔

ذرائع نے مسلم لیگ (ن) کی اشتیاق احمد خان کے نام پر آمادگی کو نون لیگ کی سیاسی پوزیشن میں کمزوری قرار دیا ہے کیونکہ نواز شریف کے ممبئی حملے سے متعلق متنازع بیان کے باعث حکمران جماعت سخت مشکلات کا شکار ہے۔جس کا اظہار گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب نے نواز شریف سے ہونے والے اہم ملاقات میں بھی کیا تھا، مگر نواز شریف نے دونوں رہنماؤں کو باور کرادیا ہے کہ وہ کسی صورت دفاعی انداز اختیار نہیں کرینگے اور ووٹ کو عزت دو کے بیانئے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونگے۔

واضح رہے کہ گیارہ مئی کو ایک تقریب  میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا تھا کہ نگران وزیراعظم کے لیے نام پر میں اور وزیراعظم متفق ہوگئے ہیں،نگران وزیراعظم ایک اچھا منتظم اور سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ نام متفقہ ہےجو میرے دل میں محفوظ ہے میں بہت اچھا رازداں ہوں میڈیا جتنا بھی کہے وقت سے پہلے نام نہیں بتاؤں گا، خورشید شاہ نے کہا کہ پہلے نام سامنے آجاتے تو میڈیا اس کا تیاپانچہ کردیتا ہے۔

واضح رہے کہ چار مئی کو نگران وزیراعظم کے لئے دو ناموں پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اتفاق کیا تھا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

تحریک انصاف نے نگران وزیراعظم کیلئے 3 نام فائنل کرلئے

اس سے قبل سولہ فروری کو پاکستان تحریک انصاف نے نگران وزیراعظم کیلئے تین نام فائنل کئے تھے، جن میں عبدالرزاق داؤد، تصدق حسین جیلانی اورعشرت حسین کے نام شامل تھے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ڈاکٹر عشرت حسین الہٰ آباد میں پیدا ہوئے تاہم قیامِ پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہو گئے تھے۔1964ء میں انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ڈاکٹر عشرت حسین کانام 2013ء میں بھی نگراں وزیراعظم کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن اُس وقت ان کا نام تحریکِ انصاف نے نہیں بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے پیش کیا تھا۔ڈاکٹر عشرت حسین ممتاز بینکار اور ماہرِ اقتصادیات ہیں، وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے ڈین رہ چکے ہیں، قبل ازیں وہ عالمی بینک کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔انہیں حکومتِ پاکستان کی طرف قومی اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔

سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹرعشرت حسین اس وقت انٹرنیشنل مانیٹری اینڈفنانشل کمیٹی(آئی ایم ایف سی)کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں نے ان کی نامزدگی کی منظوری دیدی۔

رضا ربانی کا وزیراعظم اور خورشید شاہ کو نگران وزیراعظم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا مشورہ

بعد ازاں سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو نگران وزیراعظم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری پر تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔ میاں رضا ربانی نے مزید کہا کہ نگران وزیراعظم پالیسی اور مالی امور کے بارے کوئی فیصلے نہیں کر سکتا۔ سینیٹ کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ نگران وزیراعظم اپنے آئینی کردار تک محدود رہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس ماہ کے اختتام سے پہلے نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرلیں گے، خورشید شاہ

نگران وزیراعظم کی تقرری کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے، شیخ رشید

 

Comments are closed.

Scroll To Top