تازہ ترین
وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جاری

وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جاری

اسلام آباد: (24 ستمبر 2018) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا پہلا اجلاس شروع ہوگیا ہے، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان کررہے ہیں جبکہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وزیراعلیٰ صوبہ خیبر پختونخواہ محمود خان مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شریک ہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے پہلے اجلاس میں سات نکاتی ایجنڈا زیر غور لایا جارہا ہے، جس میں کراچی کو 1200 کیوسک اضافی پانی دینے اور بلوچستان کے توانائی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس میں پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال کو پانی فراہم کرنے پر غور ہوگا۔ ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے معاملات پر مشاورت ہوگی۔

اجلاس میں پیٹرولیم پالیسی 2012ء میں ترمیم پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے معاملات کا جائزہ بھی لیا جائے گا،اس کے علاوہ وزیراعظم قومی صفائی مہم شروع کرنے کیلئے وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کریں گے۔  Ø¹ÙˆØ§Ù… کو پہلے سو روز میں ہی تبدیلی نظر آئے گی، عمران خان

واضح رہے کہ 21 ستمبر کو روز یوم عاشور کے موقع پر آئی جی آفس میں قائم کنٹرول روم کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو شہریت دینے کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھائیں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے اعلان کے بعد سندھ حکومت نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے،موجودہ حکومت سے قبل مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی بنگالی اور بہاری کمیونٹی کے بلاک شناختی کارڈ کھولنے اور نئے کارڈ کا اجرا شروع کیا تھا، تاہم سندھ میں قوم پرست جماعتوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا، جس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریت ایکٹ 1951 میں واضح ہے کہ کون اس ملک کا شہری ہوسکتا ہے کون نہیں۔ اس ایکٹ سے ہٹ کر کسی غیر ملکی کی شہریت قبول نہیں کی جائے گی۔

سندھ کی جو قدیم آبادی ہے اس کو تشویش ہے کہ ایسا نہ ہوکہ غیر قانونی تارکین وطن اتنی تعداد میں آجائیں اور پھر وہ کاغذات بناکر کہیں کہ یہ زمین ہی ہماری ہے آپ یہاں سے نکلو کیونکہ کراچی میں قدیم آبادی کے ساتھ ایسا ہوتا رہے، اس لیے یہ ان کا حق ہے کہ اپنے خدشات کا اظہار اور احتجاج کریں۔سندھی قوم پرستوں کی طرح بلوچ قوم پرست جماعتیں بھی غیرقانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی مخالف ہیں جن میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی بھی شامل ہے۔

بی این پی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی ثنااللہ بلوچ اس کو غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کا جو سماجی اور معاشی دباؤ ہے وہ صوبوں پر پڑنا ہے کسی صوبے سے مشاورت نہیں کی گئی، اسمبلی میں زیر بحث نہیں لایا گیا، یہ دو یا چار افراد کی شہریت کا معاملہ نہیں ہے یہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ افراد کی شہریت کا معاملہ ہے ، اس کو صوبائی اسمبلیوں، مشترکہ مفادات کاؤنسل اور بین الصوبائی کی وزارات میں لانا چاہیے تھا۔ہم نے جو چھ نکات پیش کیے تھے اس میں ایک نکتہ افغان پناہ گزین کی واپسی ہے، جن کی وجہ سے بلوچستان کی ڈیمو گرافی اور اس کی آبادی کا جو تناسب ہے وہ متاثر ہو رہا ہے، بلوچستان میں سہولیات پر بڑا دباؤ ہے جس نے معشیت اور ملازمتوں کے سیکٹر کو متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عوام کو پہلے سو روز میں ہی تبدیلی نظر آئے گی، عمران خان

وزیراعظم ہاؤس میں موجود بھینسوں کی نیلامی 27 ستمبر کو ہوگی

 

Comments are closed.

Scroll To Top