تازہ ترین
نگراں وزیراعظم کا تقرر پارلیمانی کمیٹی کرے گی

نگراں وزیراعظم کا تقرر پارلیمانی کمیٹی کرے گی

اسلام آباد: (25 مئی 2018) وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگراں وزیراعظم کے حوالے سے ہونے والی پانچ ملاقاتیں بے سود ہوچکی ہیں، اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ نگراں وزیراعظم کے حوالے سے فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کریگی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ نگراں وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچے گا، مگر گزشتہ روز خورشید شاہ نے کل ہونے والی ملاقات منسوخ کردی اور موقف اپنایا کہ حکومت نگراں وزیراعظم کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم نہیں رہ سکی ہے۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

اس سے قبل وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگراں وزیراعظم کے حوالے سے ہونے والی پانچویں ملاقات بغیرکسی نتیجے کے ختم ہوگئی تھی، ملاقات میں دونوں جانب سے کسی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

اس سے قبل حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی نگراں وزیر اعظم کیلئے تین نام سامنے آئے تھے، نون لیگ کی جانب سے تجویز کردہ ناموں میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین شامل ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے نگران وزیراعظم کیلئے تین نام فائنل کئے تھے، جن میں عبدالرزاق داؤد، تصدق حسین جیلانی اورعشرت حسین کے نام شامل تھے۔

جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے نگراں وزیراعظم کیلئے پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کیے گئے دونوں نام مسترد کردیئے تھے، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہی الیکشن لڑے گی، کسی بھی جماعت سے اتحاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

نگراں وزیرا عظم کے انتخاب کا قانونی طریقہ کار

نگران وزیرِ اعظم کی نامزدگی کیلئے اٹھارہویں ترمیم میں تین مختلف راستے وضع کیے گئے تھے۔

حکومت اور حزبِ اختلاف کا متفقہ فیصلہ

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 224 کے تحت قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے ایک نام پر اتفاق کریں، جس کو صدرِ مملکت بطور نگران وزیر اعظم تعینات کریں گے۔

پارلیمانی کمیٹی

قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کیلئے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 224 اے کے تحت معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا جو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ اس کمیٹی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم دو دو نام دیں گے، جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں سے کل آٹھ اراکین اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔

یہ پارلیمانی کمیٹی تین دن میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان

اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائے تو آرٹیکل 224 کے تحت ہی معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔

پارلیمانی کمیٹی مجوزہ نام الیکشن کمیشن کے پانچ ممبران کو بھیجے گی۔ یہ ارکان 48 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ نگران وزیر اعظم کون ہوگا۔

نگران وزیرِاعظم کے اختیارات

الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017ء کے مطابق نگران حکومت کا کام صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد اور روز مرہ کے امور انجام دینا ہے جبکہ نگران حکومت خود کو روزمرہ سرگرمیوں، غیر متنازع، اہم اور عوامی مفاد کے معاملات اور ان اقدامات تک محدود رکھے گی جن کو مستقبل میں آنے والی حکومت واپس لے سکے اس کے پاس کوئی بڑا پالیسی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔

نگران حکومت کوئی ایسا فیصلہ یا پالیسی نہیں بنا سکتی جو آئندہ حکومت کے فیصلوں پر اثرانداز ہو۔ نگران حکومت عوامی مفاد کے خلاف کوئی بڑا معاہدہ نہیں کر سکتی۔ نگران حکومت کسی ملک یا بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتی نہ ہی کسی بین الاقوامی معاہدے، بائنڈنگ پر دستخط کر سکتی ہے جب تک کہ ایسا کرنا انتہائی ضروری نہ ہو۔

نگران حکومت تقرریاں، تبادلے یا افسران کی ترقیاں نہیں کر سکتی۔ ایسا صرف عوامی مفاد میں مختصر مدت کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ضروری قرار دیئے جانے پر ہی عوامی عہدہ رکھنے والے افسران کے تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کر سکتی جوعام انتخابات کی شفافیت پر اثر انداز ہو سکے۔

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top