تازہ ترین
سپریم کورٹ میں پاناما نظر ثانی کیس کی سماعت شروع

سپریم کورٹ میں پاناما نظر ثانی کیس کی سماعت شروع

اسلام آباد: (14 ستمبر 2017) سپریم کورٹ میں پاناما نظر ثانی کیس کی سماعت ہوگئی ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ درخواستوں کی سماعت کررہا ہے، سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل دئیے جارہے ہیں۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کے فیصلے پر نظرثانی کیلئے نواز شریف اور ان کے بچوں کی جانب سے دائر کی درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوگئی ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی بینچ سماعت کررہا ہے،سابق وزیراعظم کے وکیل کو سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ آج وہ اپنے دلائل مکمل کرلیں ۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ پاناماکا فیصلہ بہت محتاط ہو کر دیاہے، اور اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کوئی دوسرا ٹرائل متاثر نہ ہو،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی فیصلے میں بہت محتاط زبان استعمال کی گئی، ہم نے آئس برگ کی ٹپس سے نتیجہ اخذ کیا ہے، یہ نہ ہومکمل آئس برگ نکال لیں اور آپ شکایت کریں۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا تنخواہ ظاہر نہ کرنا غلطی ہوسکتی ہے، بد نیتی نہیں۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں تھی، ہم نے 184/3 کا اختیار استعمال کیا، کیپٹل ایف زیڈای کا معاملہ نیب کے پاس ہے، مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

جبکہ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے اور صادق اور امین کے تحت نااہلی کے لئے الگ قانونی تقاضے ہیں ۔ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دینا درست نہیں، اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ دس ہزار درہم ارب پتی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔

اس پر سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف نے اپنے بیٹے سے کبھی تنخواہ وصول ہی نہیں کی ،اور اس معاملے پر استغاثہ اور جے آئی ٹی نے بھی تنخواہ وصول کرنے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر وصول شدہ تنخواہ اثاثہ ہوتی ہے ، سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے اپنے اعتراض میں کہا کہ پاناما کیس کے حتمی فیصلے میں تین رکنی بینچ کے دو جج فیصلہ دے چکے تھے ، یہ جج دوبارہ پانچ رکنی بینچ میں کیوں بیٹھے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی جانب سے دو ممبران کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا اس کا مطلب یہ ہے آپ نے فیصلہ قبول کیا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اقلیتی فیصلے کی قانونی اہمیت نہیں ہوتی اس لئے اسے چیلنج نہیں کیا گیا۔جس پر خواجہ حارث بولے کہ فیصلے کی کوئی قانونی حثیت نہیں تھی ، قانون کے مطابق اثاثے نہ بتانے پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے ،مگر کامیاب امیدوار کو نااہل نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ قانون میں باسٹھ ایف ۔ ون کے تحت نااہلی کا طریقہ مختلف ہے۔

خواجہ حارث کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دینا بهی قانون کے مطابق نہیں ، حالیہ فیصلے پر تحقیقات اور ٹرائل پر مانیٹرنگ جج کی تعیناتی کی کہیں مثال نہیں ملتی ، کیونکہ نگران جج تحقیقات کی نگرانی کرنے والے بینچ کا حصہ تهے ، ان کی تعیناتی سے نواز شریف کے حقوق متاثر ہوئے ۔جس پرجسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ تحقیقات پر ٹرائل ہونا ہے ۔ ٹرائل کورٹ میں شواہد اور جے آئی ٹی ممبران پر جرح کا مکمل موقع ملے گا ، جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ بیس اپریل کے فیصلے پر تمام ججز کے دستخط تھے ، اختلاف صرف جے آئی ٹی کی تشکیل پر تھا ، پھر اٹھائیس جولائی کو سب ججوں نے حتمی فیصلہ دیا ، بیس اپریل کو نااہل کرنے والوں نے اٹھائیس جولائی کو کچھ نہیں کہا ، ایسی کئی عدالتی مثالیں موجود ہیں ۔دوران سماعت خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے جے آئی ٹی ارکان کے فیصلے میں تعریفیں بھی کیں اور اس معاملے میں سپریم کورٹ شکایت کنندہ بن گئی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعریفیں تو ہم نے آپ کی بھی کافی کی ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میری تعریف بے شک فیصلے میں حذف کردیں۔

یہ بھی پڑھئے

پاناما کیس کا فیصلہ محتاط ہوکر دیا، سپریم کورٹ

پاناما نظرثانی کیس : سابق وزیراعظم کے وکیل آج اپنے دلائل مکمل کریں گے

Comments are closed.

Scroll To Top