تازہ ترین
پاناما عملدر آمد کیس کی سماعت کل تک ملتوی

پاناما عملدر آمد کیس کی سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: (17جولائی،2017) سپریم کورٹ نے پاناما عملدر آمد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے، جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اپنے دلائل کو ایشوز تک محدود رکھیں تاکہ عوام اور عدالت کا وقت ضائع نہ ہو۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے وکلاء نے دلائل مکمل کرلئے ہیں کل شریف فیملی کے وکیل اپنے دلائل کا آغاز کریں گے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کا بٹن دبائیں 

تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کرائی کے حتمی رپورٹ کے بعد جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی پر مشتمل سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے پاناما عملدر آمد کی سماعت کی، پی ٹی آئی کی جانب سے نعیم بخاری ، جماعت اسلامی کےتوفیق آصف اور شیخ رشید نے خود دلائل دئیے۔

اپنے دلائل میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ پانچ ججز نے قوم کی جو خدمت کی ہے، اللہ اس کا صلہ ضرور دے گا، لوگوں نے کہا جے آئی ٹی کی رپورٹ جنات کی ہے، سپریم کورٹ کو ایسی جے آئی ٹی تشکیل دینے پر سلام پیش کرتا ہوں، جے آئی ٹی ارکان نے بہت اچھا کام کیا، اب انصاف کی جیت ہوگی۔

شیخ رشید نے کہا ہر کیس کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے، جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ شریف خاندان کی بے نامیوں کا جمعہ بازار ثابت ہو چکا ہے، شریف فیملی عام قسم کی مخلوق نہیں ہے، ایک بچے کو سعودی عرب، دوسرے کو لندن رکھا گیا ۔

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا اور انہوں نے اپنے خالو کو ہی پہنچاننے سے انکار کیا۔ توفیق زاہد کے دلائل پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ تو ہم نے بھی پڑھی ہے، ٹیم کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے، جے آئی ٹی کی فائنڈنگز پر عمل کیوں کریں؟ یہ آپ نے بتانا ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ جے آئی ٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں؟ اپنے کون سے اختیارات کا کس حد تک استعمال کر سکتے ہیں یہ بتائیں۔

توفیق آصف کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ نواز شریف نے جے آئی ٹی میں کہا قطری سرمایہ کاری کاعلم ہے مگر کچھ یاد نہیں، نواز شریف نے قطری خطوط پڑھے بغیر درست قرار دی جب کہ انہوں نے اسمبلی تقریر اور قوم سے خطاب میں سچ نہیں بولا، میری درخواست نواز شریف کی اسمبلی تقریر کے گرد گھومتی ہے۔

شریف خاندان کےوکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دو متفرق درخواستیں دائر کی ہیں، ایک درخواست جلد 10فراہم کرنے سے متعلق ہے، دوسری درخواست جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سے متعلق ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ دستاویزات اکٹھی کرنے میں جے آئی ٹی نے قانون کی خلاف ورزی کی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل دستاویزات کو ثبوت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا، جے آئی ٹی نے عدالت کے کرنے والا کام کیا، خواجہ حارث کے دلائل کے دوران جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ اپنے دلائل کوایشوز تک محدود رکھیں تو آسانی ہو گی، الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کروانا پڑیں۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی عدالتی احکامات سے کافی آگے چلی گئی تھی جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی ٹرائل نہیں کر رہی تھی جب کہ جسٹس عظمت سعید شیخ کہنا تھا کہ اپنے الفاظ کا چناؤ احتیاط سے کریں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ چاہتے ہیں عوام اور عدالت کا وقت ضائع نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.

Scroll To Top