تازہ ترین
پاکستانی گلوکار اخلاق احمد کے مداح آج  ان کی 73 ویں سالگرہ منارہے ہیں

پاکستانی گلوکار اخلاق احمد کے مداح آج ان کی 73 ویں سالگرہ منارہے ہیں

ویب ڈیسک:(10 جنوری 2019) پاکستانی پلےبیک سنگراخلاق احمد کے مداح آج ان کی تہتتر ویں سالگرہ منارہے ہیں ۔ان کےگائے ہوئے گیت آج بھی کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔

اخلاق احمد10 جنوری 1946ء کو پیدا ہوئے تھے۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے اپنی فنی سفر کا آغاز کراچی میں اداکار ندیم اور مسعود رانا کے ساتھ ایک سٹیج پرفارمنس سے کیا اور پھر تینوں سنگیت کے افق پر ستارے بن کر چمکے۔

 اداکار ندیم نے 1974ء نے اپنی ذاتی فلم مٹی کے پتلے میں اخلاق احمد کے آواز میں ایک نغمہ شامل کیا اور لاہور ہی میں موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمد کی آواز میں اپنی فلم چاہت کا ایک نغمہ ساون آئے، ساون جائے ریکارڈ کروایاجو اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایا۔ اس نغمے پر انہیں خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا۔

اسی دوران اخلاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کیا اور وہ ٹیلی وژن کے بھی مقبول گلوکار بن گئے۔ ساتھ ہی ساتھ فلمی دنیا میں بھی اخلاق احمد کی مقبولیت کا سفر جاری رہا۔ شرافت، دو ساتھی، پہچان، دلربا، امنگ، زبیدہ، انسان اور فرشتہ، انسانیت، مسافر، راستے کا پتھر، آئینہ، سنگم، آدمی، پرنس، انمول محبت، خاک اور خون، بندش، مہربانی، نادانی، دوریاں، بسیرا، لازوال ایسی فلمیں ہیں جن میں اخلاق احمد کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے۔

اخلاق احمد نے اپنی فنی زندگی میں 90 اردو فلموں میں مجموعی طور پر 140 گیت گائے۔ ان کے بیشتر گانے سننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔ انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے۔

انیس سو پچاسی میں اخلاق احمد کو خون کے سرطان کا موذی مرض تشخیص ہوا۔ انہیں علاج کے لئے لندن لے جایا گیا۔ وہ 14 برس تک اپنی جان لیوا بیماری سے لڑتے رہے مگر 4 اگست 1999ءکو لندن میں بیماری کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

Comments are closed.

Scroll To Top