تازہ ترین
رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں تجارتی خسارہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں تجارتی خسارہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

اسلام آباد (11جنوری،2018) رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں تجارتی خسارہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ساڑھے 24 فیصد زیادہ ہے۔ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی کرنٹ اکاؤنٹ عدم توازن اور زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر کیلئے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

پاکستانی ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تجارتی خسارہ17 ارب 96 کروڑ 30لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 14 ارب 43 کروڑ ڈالر کی سطح پر تھا۔

اس طرح ایک سال میں تجارتی خسارے میں ساڑھے24 فیصد اضافہ ہوگیا۔ دستاویز کے مطابق پہلی ششماہی کے دوران ملکی برآمدات 11فیصد اضافے کے ساتھ 11 ارب ڈالر رہیں اور درآمدات 19 فیصد اضافے کے ساتھ 28 ارب 97 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

دستاویز کے مطابق دسمبر 2017کے دوران تجارتی خسارہ دو ارب93 کروڑ ڈالر رہا جو دسمبر2016 کی نسبت7 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران ملکی برآمدات15 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 98 کروڑ ڈالر اور درآمدات 10 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ارب 91 کروڑ ڈالر رہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلی ششماہی میں ملکی درآمدات کے نتائج بتا رہے ہیں کہ اگر انہیں کنٹرول کرنے کیلئے موئثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو جون تک یہ55 سے 60ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ تاہم حکومت پرامید ہے کہ برآمدات میں اضافہ کر کے تجارتی خسارے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالرز سے تجاوز کرگیا

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top