تازہ ترین
پاکستان نے کلبھوشن سے ملاقات کے لئے اہلیہ اور والدہ کو اجازت دے دی

پاکستان نے کلبھوشن سے ملاقات کے لئے اہلیہ اور والدہ کو اجازت دے دی

اسلام آباد: (08 دسمبر 2017) پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ کو ملاقات کی اجازت دے دی ہے، ملاقات میں  بھارتی سفارت خانے کا ایک اہلکار بھی ساتھ ہوگا۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو سے اِس کی بیوی کو ملنے کی اجازت دی تھی تاہم بھارت نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ کلبھوشن کی اہلیہ سے پہلے اس کی والدہ کو ملنے کی اجازت دی جائے، پاکستان نے بھارتی درخواست کو منظور کرلیا ہے اور کلبھوشن یادو سے والدہ اور بیوی دونوں کو ملنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ فیصلے کے حوالے سے بھارت کو آگاہ کردیا گیا ہے اور کلبھوشن سے ان کی ملاقات پچیس دسمبر کو ہو گی ، ملاقات میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو بھی ساتھ جانے کی اجازت ہوگی اور سب کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

یاد رہے کہ اٹھارہ نومبر کو بھارتی جاسوس کلبھوشن کی اہلیہ سے ملاقات کی پیشکش کے حوالے سے پاکستان کو بھارت کا جوابی خط موصول ہوا تھا، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کلبھوشن کی اہلیہ سے پہلے اس کی والدہ کو ملنے کی اجازت دی جائے۔وﺍﺿﺢ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ دس ﻧﻮﻣﺒﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﭘﺮ بھارتی ﺟﺎﺳﻮﺱ ﮐﻠﺒﮭﻮﺷﻦ یادیو ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﺩﻓﺘﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﭘﺮ ‘ ﮐﻠﺒﮭﻮﺷﻦ یادیو ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ گی، ﻭﺍﺿﺢ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ بھارت ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﮐﻠﺒﮭﻮﺷﻦ ﺗﮏ ﻗﻮﻧﺼﻠﺮ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ،ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﯽ ﮨﮯ۔

بیس نومبر کو پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو عالمی عدالت انصاف میں ایڈہاک جج نامزد کیا، کیونکہ پاکستان کلبھوشن کے حوالے سے اپنا تفصیلی جواب تیرہ دسمبر تک عالمی عدالت انصاف بجھوانے کا پابند ہے۔یاد رہے کہ بھارت کے جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کروانے سمیت اپنے تمام جرائم کا پھراعتراف اور ان پر ندامت کا اظہارکرتے ہوئے آرمی چیف سے سزائے موت معاف کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس کےعلاوہ کلبھوشن یادیو نے اپنی سزائے موت کیخلاف ملٹری اپیلٹ کورٹ میں بھی نظرثانی درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ آرمی چیف سے اپیل مسترد ہونے کی صورت میں رحم کی آخری اپیل صدر مملکت کو بھیجی جاچکی ہے ۔کلھبوشن یادیو تین مارچ 2016 کو ایران سے بلوچستان میں داخلے کے بعد گرفتار ہوا تھا‘ تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ وہ بھارتی جاسوس ہے جسے را نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بھیجا ہے۔

اس حوالے سے آئی ایس پی آر نے اس کے اعترافی بیان کی ویڈیو بھی جاری کی تھی ،جس کا مقصد دنیا کو بتانا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کیا کچھ کیا اور کیا کر رہا ہے۔

 

 

Comments are closed.

Scroll To Top