تازہ ترین
نواز شریف تاحیات (ن) لیگ کےقائد منتخب

نواز شریف تاحیات (ن) لیگ کےقائد منتخب

لاہور: (27 فروری 2018) (ن) لیگ کے مرکزی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر سابق وزیراعظم اور سابق صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات صدر بنانے کی منظوری دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہونے والے اہم اجلاس میں (ن) لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو منتقفہ طور پر قائم مقام صدر (ن) لیگ منتخب کیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اس موقع پر چیئرمین (ن) لیگ راجہ ظفرالحق اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میاں نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا تاحیات صدر بنانے کی تجویز پیش کی جسے مرکزی مجلس عاملہ کے تمام ارکان نے منظور کرتے ہوئے سابق صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کو تاحیات پارٹی کا صدر منتخب کرلیا ہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، چیئرمین (ن) لیگ راجہ ظفر الحق اور وزیراعلیٰ پنجاب نے نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات قائد مقرر کیا جس کے مرکزی مجلس عاملہ نے منظوری دے دی ہے۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ الحمداللہ ہم متحد ہیں ، ایک ساتھ کھڑے ہیں اور (ن) لیگ بھی ایک ہی ہے۔

مریم نواز کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کی گئی تصاویر میں مریم نواز نے وزیراعلیٰ پنجاب کو قائم مقام صدر(ن) لیگ منتخب ہونے پر مبارکباد دی اس موقع پر شہباز شریف نے مریم نواز کو گلے لگایا۔

اس سے قبل (ن) لیگ کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے سابق وزیراعظم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا میرے خلاف کوئی کیس نیب نے نہیں بنایا، منتخب وزرائے اعظم کو ذلیل کیا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا ہر مارشل لاءکو نظریہ ضرورت کے تحت تحفظ دیا گیا، مارشل لاءپر مہر لگائی گئی ، آمروں کے ہاتھ پر بیعت ہوتی رہی۔ ان کا کہناتھا چھ ماہ میں مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن کا کیس سامنے نہیں آیا۔نواز شریف نے مزید کہا  کہ پاکستان کے بننے سے یہ کام شروع ہوا اور آج تک ختم نہیں ہوا ، تاریخ کو قبرمیں دفن نہیں کیا جاسکتا، ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے ، جو 70 سال سے کرتے آئے یہ اسی کا ایک باب ہے۔

سابق وزیراعظم  نے کہا کہ  میں حیران ہوں اور میری حیرانی بالکل جائز ہے ، کب تک ہم یہ کرتے رہیں گے، ہماری جماعت اسے قبول نہیں کرے گی کہ جو چاہے اسے ہانکے، پی سی او کے تحت حلف لینا ملک میں سب سے بڑا جرم ہے۔ان کا کہناتھا کہ ایسا فیصلہ مان لینا ہمارے ضمیر اور اصولی موقف کی توہین ہے،آپ ایسے فیصلے دیں ،نوازشریف اسے قبول نہیں کرسکتا،سابق وزیراعظم نے کہا کہ عوامی طاقت سے آنے والوں کوآپ ایسے نکال دیتے ہیں؟،میں اگر خاموش ہوں، میرے ضمیر، دل و دماغ سے پوچھیں، میں برملا کہوں گا کہ یہ فیصلہ نہیں مانتا۔

نوازشریف کا کہناتھا کہ کہاں ہے عوام کی حاکمیت، کہاں ہے عوام کی عزت؟ ،میں زبردستی عہدوں کے ساتھ چمٹنا نہیں چاہتا، بہت ہوگیا، بہت سیاسی لیڈر پھانسیاں چڑھ چکے،ان کا کہناتھا کہ سیاستدان آسان ہدف ہیں، ہتھ کڑیاں لگوا دو، ملک بدر کروا دو،اگر یہی نظام ہے تو میں اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کوجو 70 سال میں نہیں مل سکا وہ دلاؤں گا، یہ سکہ شاہی نہیں چلے گی اور نہ چلنے دوں گا۔

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ ہم ترقی کا نیا دور لے کر آئے، کراچی میں امن قائم کیا، موٹرویز کا جال بچھایااور بجلی کے منصوبے لگائے۔

یہ بھی پڑھیے

نوازشریف کا نام پارٹی سے نکالنے کیلئے عوامی تحریک نے درخواست دائر کردی

پارٹی کے نئے صدر کا اعلان کل کیا جائے گا، مریم اورنگزیب

Comments are closed.

Scroll To Top