تازہ ترین
نواز شریف کے محافظوں کی آج پھر صحافیوں سے بدتمیزی

نواز شریف کے محافظوں کی آج پھر صحافیوں سے بدتمیزی

اسلام آباد: (18 دسمبر 2018) نجی ٹی وی کے کیمرہ مین پر تشدد کے واقعہ کے خلاف احتساب عدالت میں صحافیوں نے احتجاج کیا، نواز شریف احتجاج نظر انداز کرتے ہوئے عدالت میں چلے گئے۔

گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نواز شریف کے گارڈز کی جانب سے کیمرہ مین پر تشدد کے واقعے کے خلاف احتساب عدالت میں صحافیوں نے احتجاج کیا۔ نواز شریف صحافیوں کے احتجاج کو خاطر میں نہ لائے اور ان کی بات سنے بغیر احتساب عدالت میں چلے گئے۔

گذشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف کے گارڈ نے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین کو تشدد کا نشانہ بنادیا جس سے وہ بے ہوش گیا تھا۔ نجی ٹی وی کے کیمرہ مین واجد علی نواز شریف کی پارلیمنٹ سے روانگی کی فوٹیج بنا رہے تھے جب سابق وزیراعظم کے گارڈ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ کیمرہ مین کو بے ہوشی کی حالت میں پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد صحافیوں نے پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر ایک پر احتجاجی دھرنا دے کر بلاک کردیا اور تشدد کرنے والے ایک گارڈ کو پکڑ کر پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کے حوالے بھی کردیا۔

دوسری جانب نواز شریف کی ہدایت پر مریم اورنگزیب اور دیگر رہنما زخمی کیمرہ مین کے ساتھ اسپتال میں موجود ہیں۔ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے واقعہ پر معذرت کرتی ہوں۔ تشدد میں ملوث اہلکار کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) صحافت اور میڈیا برادری کا دل سے احترام کرتی ہے۔ کیمرہ مین اور صحافی اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دیتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ نوازشریف کو جیسے ہی واقعہ کا علم ہوا انہوں نے انتہائی غصے کا اظہار کیا۔ ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے گی کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے سے بچا جاسکے۔

ادھر سابق وزیراعظم نواز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ میں کیمرہ مین پر تشدد کی مذمت کرتا ہوں۔ واقعے کا سن کر دلی دکھ اور رنج ہوا۔ جیسے ہی واقعے کا علم ہوا میں نے مریم اورنگزیب اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو زخمی کیمرہ مین کو اسپتال لے جانے اور ان کے علاج معالجے کے انتظامات کی ہدایت کی۔نواز شریف نے کہا کہ میں ذاتی طور پر بھی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) بحیثیت جماعت صحافیوں، کیمرہ مین اور فوٹو گرافر برادری کا بے حد احترام کرتے ہیں۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ اپنے اسٹاف میں ایسے کسی شخص کو برداشت نہیں کروں گا جو اس طرح کے رویے کا مرتکب ہو۔ یقینی بنائیں گے کہ اس قسم کا کوئی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ مستقبل میں رونما نہ ہو۔ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کیمرہ مین پر تشدد کے واقعے کی مذمت کی اور تشدد کرنے والے گارڈز کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امید کرتا ہوں کہ ن لیگ کی قیادت اس واقعے کی مذمت کرے گی۔دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نواز شریف کے گارڈز کے کیمرہ مین پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے سیکیورٹی گارڈز کیخلاف ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ارکان کی حفاظت پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کرے گی اور آئندہ کوئی شخصیت اپنے ساتھ سیکیورٹی گارڈ پارلیمنٹ کے احاطے میں نہیں لاسکے گی۔

اسپیکر نے کہا کہ کوئی جتنا بھی بڑا لیڈر ہے سیکیورٹی پارلیمنٹ سے باہر چھوڑ کر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

کیمرہ مین پر تشدد میں ملوث اہلکار کو سخت سزا دی جائے گی، مریم اورنگزیب

مریم اورنگزیب کے خلاف نیب انکوائری شروع ، ذرائع

Comments are closed.

Scroll To Top