تازہ ترین
پنجاب حکومت کی سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنانے کی یقین دہانی

پنجاب حکومت کی سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنانے کی یقین دہانی

اسلام آباد:(05دسمبر،2018)سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں حکومت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں نئی جےآئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نے درخواست نمٹادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سےمتعلق کیس کی، اس موقع پر ڈاکٹرطاہرالقادری عدالت میں پیش ہوئے جبکہ جاں بحق تنزیلہ کی بیٹی بسمہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈاکٹرطاہرالقادری کیا آپ خود دلائل دیں گے، جس پر طاہرالقادری نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو جواب دیا کہ جی میں خود دلائل دوں گا، قانونی سوالات کے لیے میرے وکلا بھی موجود ہیں، عدالت کو صرف حقائق سے آگاہ کروں گا،چیف جسٹس نے طاہرالقادری کے پیچھے کھڑے وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا عدالت کے لیے کوئی مقدمہ سیاسی نہیں ہوتا، وکلا کی وزن بڑھاؤ کمیٹی ہمیں دباؤ میں نہیں لاسکتی۔طاہرالقادری نے بتایا کہ واقعے کے روز دس افراد جاں بحق اور اکہتر زخمی ہوئے تھے، جس پر جسٹس آصف سعید نے کہا مشتاق سکھیرا کو ملزم بنانے کے بعد تمام بیانات دوبارہ ہوں گے، جس پر ڈاکٹرطاہر القادری کا کہنا تھا کہ ٹرائل دوبارہ صفرکی سطح پر آگیا ہے، لارجر بینچ تشکیل سے مظلوموں کو انصاف کی امید ہوئی، ملزمان کا ٹرائل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا ہے، دونوں مقدمات پر ٹرائل ایک ساتھ چل رہاہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا جے آئی ٹی کس ایف آئی آرپربنی؟ طاہرالقادری نے بتایا کہ پہلے پولیس نے اپنی ایف آئی آر پر جے آئی ٹی بنائی تھی، بعد میں ہماری ایف آئی آر پر پولیس نے جے آئی ٹی بنائی، جوڈیشل کمیشن نے بھی معاملے پر فائنڈنگ دی، کمیشن کی رپورٹ چند ماہ پہلے عدالت نے عام کی، کمیشن رپورٹ سے کئی حقائق سامنے آئے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے طاہرالقادری سے استفسار کیا آپ کا اصل مدعا کیاہے، ٹرائل میں کتنے گواہ بیان ریکارڈ کر چکےہیں، جس پر طاہرالقادری نے بتایا 157 گواہ تھے 23 گواہان کے بیان ہوچکےہیں۔

طاہرالقادری نے کہا میرےدروازےپردونوں خواتین کوگولیاں ماری گئیں، چارسال ہمارےملزم اقتدارمیں تھے، شہدا کے لواحقین کو تسلیاں دیتے ہوئے ساڑھے چار سال ہوگئے ، دلائل دیتے ہوئے طاہرالقادری آبدیدہ ہوگئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ متعلقہ جج کو ہدایت کی تھی اس کیس کو روزانہ کی بنیادوں پر سنا جائے، آپ نےدرخواست کی کیس ہفتے میں دو بار سنا جائے، جس پر طاہرالقادری نے کہا یہ آپ درست فرما رہے ہیں، ہم نے جو وکلاکر رکھے تھے، انہوں نےسرینڈرکردیا، آپ کوعلم ہےاچھے وکلا ہفتے میں متعدد کیسز کم ازکم کر رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے بتایا کہ یتیم لوگ کہتے تھے ہمیں انصاف نہیں ملے گا، کیا ہم فلسطینی تھے جو ہم پر اسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں، چار سال سے مظلوموں کے سر پر ہاتھ رکھ رہا ہوں، واقعے سے پہلے کے حالات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے،سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا یہ جانناضروری تھاکہ واقعہ پیش کیوں آیا، واقعے کے دوران اوربعدمیں کسی بھی قسم کی تفتیش نہیں کی گئی، کڑیاں نہ ملائی جائیں تو تفتیش ہی نہیں ہوگی، بنیادی طورپرازسرنوتفتیش کراناچاہتےہیں، تفتیش کے تقاضے پورےنہیں کیےگئے۔

طاہرالقادری کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نےپہلی جےآئی ٹی میں اندراج مقدمہ کی درخواست تسلیم کی، دو ماہ دھرنادینےکےبعدایف آئی آردرج ہوئی، دو بارہ تفتیش میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کا ذکر نہیں، کسی مظلوم کابیان تفتیش میں ریکارڈنہیں کیاگیا، ایسی تفتیش کو تفتیش کہا جاسکتاہے؟ کسی جے آئی ٹی نے زخمی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے بتایا کہ دھرنےمیں ڈیڑھ ماہ حکومت سےمذاکرات ہوتےرہے، چاہتے تھے پنجاب کےعلاوہ جےآئی ٹی بنائی جائے ، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کیاآپ نےجےآئی ٹی ممبران پراعتراض کیاتھا، طاہرالقادری نے جواب میں کہا باربارآئی جی کوخط لکھاجے آئی ٹی پراعتراض ہے، جےآئی ٹی ہوم ڈیپارٹمنٹ نے تشکیل دی تھی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا زخمی سے بڑا گواہ کوئی نہیں ہوسکتا، یہ کہنازخمی موقع پرنہیں تھابالکل غلط ہے،وکیل نوازشریف نے دلائل میں کہا عوامی تحریک جےآئی ٹی میں پیش نہیں ہوئی، جےآئی ٹی میں حساس اداروں کےلوگ بھی شامل تھے۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدالت نے دیکھنا ہے جے آئی ٹی آزاد تھی یا نہیں،،جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے استفسار کیا کیازخمی گواہ پیش کیے گئے، طاہر القادری نے بتایا پنجاب پولیس کےافسروں کوکوئٹہ بھیج کرجےآئی ٹی میں ڈالاگیا، پنجاب بھرسے10ہزارکارکنوں کوگرفتارکیاگیا، لوگ گھروں سے چھپ کرکسی اورجگہ سوئےتھے۔

چیف جسٹس نے طاہر القادری سے مکالمے میں کہا آپ نےدھرنادےدیالیکن عدالتوں میں نہیں آئے، عدالت سمیت ہرکام کودھرنادےکرمفلوج کیاگیا، آپ کو پہلے ہی اس عدالت میں آنا چاہیے تھا، جن لوگوں کے پاس آپ جاتے تھے، وہ عدلیہ سےبڑےنہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا عدلیہ کےدروازےہمیشہ کھلےرہےہیں، آپ ان کے پاس گئےجن کامقدمےسےتعلق نہیں تھا، دھرنےوالوں نےعدالت پرپھٹے پرانے کپڑے لٹکائے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیایہ عدالت کی تکریم ہے، ججزکابھی راستہ روکاگیا، آپ نےمناسب قانونی حکام سےرجوع نہیں کیا۔

حکومت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں نئی جےآئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نےدرخواست نمٹادی اور کہا قانون کے مطابق حکومت خود نئی جےآئی ٹی تشکیل دینا چاہتی ہے، نئی جےآئی ٹی کی تشکیل دےعدالت کاکوئی تعلق نہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

واضح رہے کہ چیف جسٹس نے متاثرہ بچی بسمہ امجد کی درخواست پر چھ اکتوبر کو نوٹس لیا تھا،سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہیدہ تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد نے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات کی تھی اور چار سال کے بعد بھی انصاف نہ ملنے پر چیف جسٹس کو درخواست پیش کی اور ان سے جلد انصاف کیلئے سووموٹو ایکشن لینے کی اپیل کی۔ملاقات میں چیف جسٹس نے انصاف میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور تاخیر کی وجوہات جاننے کیلئے مفصل رپورٹ طلب کی تھی۔

تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ سب سے بڑے منصف ہیں ہماری ساری امیدیں آپ سے ہیں، آپ ہمیں انصاف دلائیں، ہم بہن بھائی اپنی ماں کے بغیر کیسے رہ رہے ہیں یہ صرف ہم جانتے ہیں، سر! مجھے بتایا جائے میری ماں اور میری پھوپھو کا قصور کیا تھا؟ انہیں ناحق کیوں مارا گیا؟ بسمہ کے مکالمہ پر چیف جسٹس نے بسمہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا آپ تعلیم کے حصول کیلئے اپنی ماں کا خواب پورا کریں، ساری توجہ تعلیم پر دیں انصاف ہماری ذمہ داری ہے اور ان شا اللہ قانون کے مطابق انصاف ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

ماڈل ٹاؤن کیس:سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس: سابق ڈی آئی جی اور ڈی جی فوڈ کو گرفتار کرنے کا حکم

Comments are closed.

Scroll To Top