تازہ ترین
فاٹا انضمام : کے پی کے اسمبلی کا خصوصی اجلاس کل ہوگا

فاٹا انضمام : کے پی کے اسمبلی کا خصوصی اجلاس کل ہوگا

پشاور: (26 مئی 2018) فاٹا اصلاحات کی منظوری کے لیے خیبرپختونخواہ اسمبلی کا اجلاس اتوار کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے سمری گورنر کو بھجوادی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ کے ترجمان شوکت یوسفزئی کے مطابق فاٹا اصلاحات ایک تاریخی فیصلہ ہے اور اسے دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جائے گا اجلاس اتوار کے روز سہ پہر دو بجے ہوگا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

فاٹا اصلاحات کی منظوری کے لیے اس کے حمایتی جماعتوں نے تمام ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، فاٹا اصلاحات کی منظوری پیپلزپارٹی کے ضیاء اللہ آفریدی نے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی واپس لے لی ہے جس کے بعد اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے سمری بھجوائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ فاٹا اصلاحات کی صوبائی اسمبلی سے منظوری آئینی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ فاٹا اصلاحات قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ اور خیبرپختونخوا اسمبلی سے بھی منظور کیے جائیں گے۔

گزشتہ روز فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق آئینی بل قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی منظور کرلیا تھا، بل کی حمایت میں اکہتر اور مخالفت میں پانچ ووٹ آئے تھے،حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

اس سے قبل چوبیس مئی کو قومی اسمبلی نے فاٹا کا خیبر پختونخواہ میں انضمام کا بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا، بل کی منظوری کے بعد فاٹا میں ایف سی آر کا خاتمہ ہوجائے گا۔

 قومی اسمبلی میں فاٹا بل کے حق میں 229 اور مخالفت میں 11 ووٹ آئے۔جے یو آئی (ف) ، پختون خوا میپ اور پی ٹی آئی کے داور کنڈی نے فاٹا اصلاحات بل کی مخالفت کی، جے یو آئی ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا جبکہ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی سے غیر حاضر رہے۔

اس موقع پر فاٹا کے رکن مولانا جمال الدین نے کہا کہ فاٹا بل کے نام پر فاٹا کے نام کو آئین سے نکالا جارہا ہے ۔ فاٹا کی رائے کے بغیر اگر یہ بل منظور ہوا تو خطرناک ہوگا۔

وزیر قانون محمود بشیر ورک نے فاٹا انضمام کی اکتسویں آئینی ترمیم کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

اس سے قبل ایوان میں مطلوبہ ارکان کی تعداد نہ ہونے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ سب کا بل ہے، ڈیڑھ سو سال کی تاریخ بدلنی ہے، آدھا گھنٹہ اور انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم تو ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو تیار ہیں۔

فاٹا اصلاحات بل

فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔

بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔

ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا جب کہ پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔اس سے قبل ایوان میں بھارتی فوج کی کنٹرول لائن اورورکنگ باونڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والوں کےلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

بعد ازاں ایوان نے پانچ بلوں کی منظوری دی جن میں بینکوں کو قومی تحویل میں لینے کاترمیمی بل 2018 انوسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان منسوخی بل 2018 اسٹیٹ بنک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن ترمیمی بل 2017زرعی ، کاروباری اور صنعتی مقاصد کےلئے قرضہ جات کا ترمیمی 2018 اور جوائنٹ میر ی ٹائم انفارمیشن آرگنائزیشن بل 2018 شامل ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل خان نے سال 18-2017 کے لئے ملکی معیشت کی صورتحال کے بارے میں اسٹیٹ بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی۔

بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات بل کی منظوری میں معاونت پر اپوزیشن کا مشکور ہوں کہ انہوں نے بل کی منظوری کے لیے ہمارا ساتھ دیا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات بل ابتدا ہے اور ہمیں فاٹا کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے تاکہ انہیں محسوس ہو کہ وہ بھی پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح برابر کے شہری ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ایوان میں قومی یکجہتی والے روز کوئی متنازع بات نہیں ہونی چاہیے تھی۔ سب جانتے ہیں کہ دھرنا کیوں ہوا اور کس نے کیا اور پاناما میں کیا ہوا۔انہوں نے کہا کہ کسی کو منی لانڈرر کہنا اخلاق کے تقاضے کے منافی ہے۔ آج ایوان میں ایسا متنازع معاملہ نہیں لانا چاہیے تھا جس سے کسی کا استحقاق مجروح ہو اور جس سے نفرت کا پہلو سامنے آئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو بھی پاکستان میں نفرت، گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاست کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت 31 مئی تک قائم رہے گی اور 60 روز کے اندر الیکشن ہوں گے۔ پاکستان الیکشن میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

قومی اسمبلی میں فاٹا انضمام کا بل کثرت رائے سے منظور

وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں فاٹا انضمام کے بل پر اتفاق

 

 

 

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top