تازہ ترین
خادم رضوی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا

خادم رضوی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا

تین بجکر چالیس منٹ:  فیض آباد دھرنے کے دوران گرفتار ہونے والے مظاہرین کو رہا کردیا گیا ہے، اڈیالہ جیل میں بند مظاہرین کی رہائی کا حکم علاقہ مجسٹریٹ نے دیا ہے۔

دو بجکر تیس منٹ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنے پر فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی طلب کرتے ہوئے سماعت چاردسمبر تک ملتوی کردی ہے ۔ایک بجکر دس منٹ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے، وزیر قانون نے گذشتہ روز رضاکارانہ طور پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو استعفیٰ پیش کیا تھا۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلےکابٹن دبائیں

بارہ بجکر چالیس منٹ: تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیر خادم حسین رضوی کی جانب سے مطالبات پورے ہونے کے اعلان پر نمائش چورنگے پر جاری دھرنے ختم کردیا گیا ہے اور ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک بحال ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ حب ریوڑ پر بھی جاری مذہبی جماعت کے دھرنے کے شرکا پر امن طور پر منتشر ہوگئے ہیں۔

گیارہ بجکر تیس منٹ: تحریک لبیک کے امیر خادم رضوی نے اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں فوری طور پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکنان پر عائد مقدمات ختم ہونے کے بعد اسلام آباد دھرنا ختم کریں گے۔دس بجکر چالیس منٹ: عدالتی حکم پر وزیر داخلہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے، احسن اقبال نے عدالت کو بتایا کہ دھرنے کے باعث ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی ، اس معاملے پر جو بھی کیا ملکی مفاد کی خاطر کیا۔

آٹھ بجکر دس منٹ:حکومت اور دھرنا منتظمین میں معاہدہ ہوگیا ہے جس کے تحت گرفتار کارکن رہا، مقدمات اور نظر بندیاں ختم کردی جائیں گی۔ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ تیس دن میں شائع کر دی جائے گ۔ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلےکابٹن دبائیں

پانچ بج کر تیس منٹ  : وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے استعفی دے دیا۔ زاہد حامد نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے استعفیٰ دے دیا۔ ملک میں کشیدہ صورتحال کو ختم کرنے کے لیئے زاہد حامد نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا۔ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ الیکشن ایکٹ کا قانون تمام جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے بنایا تھا۔ وفاقی وزیر اس حوالے سے اپنا تفصیلی بیان بھی جاری کریں گے۔دو بج کر پیتالیس منٹ؛ لاہور میں دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاجروں کا آج کاروبار بند رکھنے کا اعلان۔ ٹرانسپورٹرز بھی گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لائیں گے۔

لاہور میں جاری دھرنوں کے پیش نظر تاجر تنظیموں نے مارکیٹیں بند رکھنے کااعلان کردیا ہے۔ آٹومارکیٹ، بادامی باغ مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ، اچھرہ مارکیٹ ، صرافہ مارکیٹ، میکلورڈ روڈ مارکیٹ، میڈیسن مارکیٹ، بلال گنج مارکیٹ اور اردو بازار سمیت دیگر مارکیٹیں بند رہیں گی۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹرز نے بھی گاڑیاں سڑکوں پر نہ لانے کا اعلان کیا ہے۔

ایک بجے رات :  وزیر تعلیم سندھ جام مہتاب ڈہر نے سندھ بھر کے کالجز اور اسکولوں میں آج کی چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں دو دن جبکہ دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی ادارے آج بند رہیں گے۔

سندھ حکومت نے صوبے کے تعلیمی اداروں میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔ وزیرتعلیم جام مہتاب ڈہرکہتے ہیں آج سندھ کےکالجز اور اسکول بند رہیں گے۔فیصلہ امن وامان کی صورت حال کےباعث کیاگیا۔ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی آج تعلیمی ادارےبند رہیں گے۔پنجاب میں دودن کیلئے تعلیمی اداروں میں تعطیل کااعلان کیا گیا ہے۔

:گیارہ بجکر بیس منٹ وہاڑی سے مسلم لیگ ن کے ایم این اے طاہر اقبال چوہدری نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔ چوہدری اقبال این اے 169 سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ طاہر اقبال چوہدری نے تحریک لبیک کے مطالبات کی حمایت بھی کردی ہے۔

:گیارہ بجکر پندرہ منٹ وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے معاملے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے رابطہ کیا ہے۔

:گیارہ بجکر دس منٹ فیصل آباد میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے گھر کے گھیراؤ پر پولیس اہلکار مظاہرین کی جانب پیش قدمی کے ساتھ آنسو گیس کی شیلنگ بھی کر رہے ہیں۔

:دس بجکر دس منٹ فیض آباد آپریشن سے ناراض ن لیگ کے 4 ایم این ایز اور 5 ایم پی ایز نے مستعٰفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ عبدالرزاق بلو، حامد حمید، منور غوث، ، نظام الدین سیالوی اور منور غوث نے استعفے پیش کردیئے۔ شیخ اکرم، مولانا رحمت اللہ، غلام محمد لالی، وارث کلو نے استعٰفے پیر حمید الدین سیالوی کو جمع کرادیئے۔

:دس بجکر پانچ منٹ ملک بھر میں جاری دھرنوں اور احتجاج کے پیش نظر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے کل ہر قسم کی پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر یقینی صورتحال پائی جارہی ہے جس کی وجہ سے کل ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔

:دس بجے ملکی کشیدہ صورت حال پر حکومت نے پیپلز پارٹی سے رابطہ کرلیا۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے خورشید شاہ کو فون کرکے ملکی حالات کے پیش نظر ایک موقف اپنانے پر اعتماد میں لے لیا۔

:نو بجکر پچاس منٹ

لاہور میں جاری دھرنوں کے پیش نظر تاجر تنظیموں نے مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کردیا۔ آٹو مارکیٹ، بادامی باغ مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ، اچھرہ مارکیٹ صرافہ مارکیٹ، بلال گنج مارکیٹ اور اردو بازار سمیت دیگر مارکیٹیں بند رہیں گی۔

:نو بجکر دس منٹ

سندھ حکومت نے صوبے کے تعلیمی اداروں میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کردیا۔ وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر کہتے ہیں کہ کل سندھ کے کالجز اور اسکول بند رہیں گے۔ فیصلہ امن و امان کی صورت حال کے باعث کیا گیا۔

:نو بجکر دس منٹ

وزیر قانون زاہد حامد نے وزارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مستعفی ہونے کا فیصلہ زاہد حامد نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کیا۔

:آٹھ بجکر پچاس منٹ

وفاقی حکومت نے فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک کے دھرنے کے خاتمے اور علاقے کو کلیئر کرنے کا ٹاسک ڈی جی رینجرز پنجاب کو سونپ دیا۔ آپریشنل اور سیکیورٹی امور رینجرز کے سپرد کر دیئے گئے۔ وزارت داخلہ نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

:آٹھ بجکر پینتالیس منٹ

عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹے سے ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں دکھائی دے رہی۔ ایک دو وزیروں کو نہیں بلکہ پوری حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہیئے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے ن لیگ کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اپنے تحفظ کے لئے وزرا سے استعفے لے سکتے ہیں تو ایسا ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کیوں نہیں ہوسکتا۔ نواز شریف اپنی نااہلی کا انتقام پاکستان سے لے رہے ہیں۔

:آٹھ بجکر پینتیس منٹ

ڈی جی وفاقی نظامت تعلیمات حسنات احمد قریشی نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ ملکی حالات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے تمام سرکاری اسکولز اور کالجز مورخہ 27نومبر کو بند رہیں گے۔

:آٹھ بجکر تیس منٹ

وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آزادی اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ چینلز کی بندش کا فیصلہ مشکل اور تکلیف دہ تھا جو بعض چینلز کی جانب سے ہیجان انگیزی کی وجہ سے کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں افراتفری اور اشتعال انگیزی کو روکنا تھا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کی آزادی اظہار رائے کے حوالے سے ایک جدوجہد ہے۔

چینلز کی بندش کا مقصد ملکی سلامتی کا تحفظ اور افراتفری سے بچاؤ تھا۔ ہم سب مل کر ملکی سلامتی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ مثبت رپورٹنگ سے عوام الناس کے جان و مال کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

:سات بجکر پنتالیس منٹ

علما کرام اور شہریوں نے منتخب نمائندوں کے نام پیغامات بھجوانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ عوام اور علما نے منتخب نمائندوں سے ختم نبوت کے حوالے سے وضاحت طلب کرلی۔ خط کے متن کے مطابق منتخب نمائندے ختم نبوت کے حوالے سے اپنا موقف پیش کریں۔

:سات بجکر چالیس منٹ

کراچی میں دھرنوں کے باعث پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے کل اسکولز بند رکھنے کا اعلان کردیا جبکہ محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے اسکولز بند رکھنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

:سات بجکر بیس منٹ

لاہور میں صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کے گھر موہنی روڈ پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا۔ پتھراؤ سے گھر کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ حالات کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا۔

:سات بجکر پندرہ منٹ

اسلام آباد انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں تعطیل کے حوالے سے خبروں کی تردید کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق کل اسلام آباد کے تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے۔

:سات بجکر دس منٹ

ترجمان پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے ملک بھر میں سوشل میڈیا کو کھولنے کا حکم دے دیا ہے۔ فیس بک, یوٹیوب, ٹویٹر کھولنے کے احکامات مل گئے ہیں۔ پی ٹی اے نے سوشل میڈیا ویب سائٹ کھولنے کے لیے اقدامات شروع کردیے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کچھ دیر میں یوٹیوب, فیس بک، ٹویٹر کو عوام استعمال کرسکیں گے۔

:سات بجکر پانچ منٹ

عوامی احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے پنجاب اسمبلی کااجلاس 4 دسمبر دن 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ عید میلادالنبی اور پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اجلاس ملتوی کیا گیا۔ شیڈول کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس پیر 27 نومبر کو ہونا تھا۔

:پانچ بجکر پچاس منٹ

وزیر قانون زاہد حامد نے ارکان پارلیمنٹ کے حلف نامے سے متعلق اہم ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے حلف نامے کا مکمل متن پڑھ کر سنایا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ کے حلف نامے سے متعلق وزیر قانون زاہد حامد نے اہم ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی مانتا ہوں۔ حرمت رسول پر میری اور میرے خاندان کی جان بھی قربان ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میرا قادیانی، لاہوری، مرزائی یا کسی ایسے گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

:چار بجکر تیس منٹ

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے۔ آرمی چیف نے فیض آباد دھرنا طاقت کے بجائے بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ آرمی چیف کہتے ہیں کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں مسئلہ حل کیا جائے۔ فوج آئین و قانون کے مطابق ہر ڈیوٹی سرانجام دے گی مگر اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرسکتے۔ وزیر اعظم نے سپہ سالار کی تجاویز سے اتفاق کیا ہے۔

:پانچ بجکر پچیس منٹ

ملک کے مختلف علاقوں میں پیمرا کے حکم کے بعد ابتک نیوز چینل سمیت دیگر نیوز چینلز کی نشریات بحال کردی گئیں۔ ٹوئٹر، فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کی بندش تاحال برقرار ہے۔

:پانچ بجکر پندرہ منٹ

فیض دھرنے سے نمٹنے میں ناکامی پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر قانون زاہد حامد سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ حکومتی نااہلی سے حساس معاملہ بگڑ گیا۔

:چار بجکر تیس منٹ

پیمرا کی جانب سے نجی ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ تمام نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کچھ دیر میں بحال ہو جائیں گی۔ پیمرا نے ہدایت نامہ جاری کر دیا۔

:تین بجکر تیس منٹ

اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا تاحال جاری ہے۔ اب دھرنے کی سیکیورٹی کی ذمہ داری رینجرز کے حوالے کر دی گئی ہے۔

ایک بج کر پچاس منٹ: 

وزیراعظم ہاؤس میں اعلی سطح کا اجلاس جاری ہے۔ جس میں فیض آباد آپریشن کےبعد کی صورتحال پر غورکیا جارہاہے۔

سواایک بجے:

مذہبی جماعتوں کے احتجاج نے فیصل آباد شہر میں معمول کی زندگی معطل ہوگئی ہے۔

ایک بجے:

پنجاب حکومت نے صوبے میں مذہبی جماعت کے دھرنے کےصورتحال پر صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں دو روزہ  تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

گیارہ بجے:

 بدین:مذہبی جماعتوں کی اپیل پر شٹرڈاؤن ہڑتال

دس بجے:

اسلام آباد:رینجرز کے اہلکاروں نے پوزیشنیں سنبھال لیں،رینجرز نے فیض آباد دھرنے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

نو بج کر پچیس منٹ :

کراچی شہر کے7 مقامات پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے جاریہیں۔ ایم اے جناح روڈ ، لیاقت آباد 10نمبر، الآصف اسکوائر ، حب ریور روڈ ، کورنگی ، ٹاور پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے دھرنے دیے جاری ہے۔

آٹھ بج کر پینتالیس منٹ :

ملتان شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سیکورٹی سخت، سیکورٹی سیکورٹی خدشات کے باعث بیشتر پیڑول پمپ بھی بند۔جبکہ فیض آباد میں دھرنے کا ردعمل  میں ملتان میں شاپنگ پلازہ ، بینک اور شو رومز کو تمبو لگا کر سیل کردیا گیا

لاہور: پولیس کو دیکھ کر دھرنے والوں کی نعرے بازی، اینٹی رائٹ فورس کے اہلکار بھی سازو سامان سے لیس ہیں۔ پولیس کی بھاری نفری مال روڈ دھرنے کی جگہ پر پہنچ گئی۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ: مذہبی جماعت کا شہداء چوک پر احتجاجی دھرنا، مرکزی انجمن تاجران نے حمایت کا اعلان کردیا

پہلادن

رات تین بج کر چودہ منٹ: پاک فوج کی جانب سے وفاقی حکومت کو فوج کی تعیناتی پر جوابی مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ فوج تفویض کام انجام دینے کیلئے تیار مگر کچھ امور کی وضاحت ضروری ہے۔ مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ روایتی طور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فوج کو استعمال نہیں کیا جاتا ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے دیئے ہوئے حکم میں احتجاج ختم کرنے کیلئے آتشیں اسلحے کے استعمال سے بھی روکا گیا ہے۔

رات ایک بج کر ستاون منٹ:(26 نومبر 2017) لاہور میں چھ مقامات پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری ہے۔ دھرنے چونگی امرسدھو فیروز پور روڈ، بابو صابو شیرا کوٹ، داتا دربار، مال روڈ، بھٹہ چوک، شاہدرہ چوک میں بھی مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی کثیر تعداد موجود ہے جبکہ کالج روڈ غوثیہ چوک ٹاؤن شپ کا راستہ کنٹینرز لگا کر بند کردیاگیا ہے۔ پرانا راوی پل، نیا راوی پل پر کارکنوں کے باعث معاملات زندگی متاثر۔

لاہور پولیس لائنز میں نفری کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ پولیس کی ایک سو بیس ریزرویں تیار کی گئی ہیں۔ ایک ریزرو میں بیس اہلکار شامل ہونگے۔

گیارہ بجکر تیس منٹ: تحریک انصاف نے وزیر داخلہ احسن اقبال کے فوری استعفے کا مطالبہ کردیا۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح میں پھیلا فساد وزیر داخلہ کے غلط اندازوں کا نتیجہ ہے۔ ضروری ہے کہ احسن اقبال فوری طور پر خود کو وزارت سے الگ کردیں۔

تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ احسن اقبال نے فیض آباد دھرنے کو ابتدا سے ہی مس ہینڈل کیا۔ فیض آباد آپریشن کے بعد پورے ملک میں پھیلنے والی آگ احسن اقبال کی نالائقی کا نتیجہ ہے۔ وزیرداخلہ کی ناکامی کے باعث حکومت کو دارالحکومت میں فوج طلب کرنا پڑی۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ آپریشن سے جنم لینے والے فساد پر پردہ ڈالنے کے لئے حکومت غیر جمہوری ہتھکنڈوں پر اتر آئی۔ میڈیا کی آواز کو خاموش اور سماجی میڈیا پر پابندی عائد کردی گئی۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین نے حکومت سے میڈیا پر پابندی کا غیر جمہوری فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دس بجے: دھرنوں کے باعث 9 گھنٹے گزرنے کے باوجود کراچی سے ٹرین آپریشن بحال نہ ہوسکا۔ دوپہر ڈیڑھ بجے روانہ ہونے والی پاکستان ایکسپریس اب تک ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ہے۔ جبکہ ہزاروں مسافر کینٹ اور سٹی ریلوے اسٹیشن پر بھی خوار ہو رہے ہیں۔

آٹھ بجکر پچاس منٹ: اسلام آباد میں غیر معینہ مدت کیلئے فوج کو طلب کرلیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کو غیر معینہ مدت تک کے لئے طلب کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں قیام امن کے لئے فوج کے خصوصی طلب کئے گئے ہیں۔

آٹھ بجکر پنتالیس منٹ: لاہور میں رینجرز کی 4 کمپنیاں بلانے کے لئے تحریری درخواست وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوادی گئی ہے۔ درخواست محکمہ داخلہ پنجاب نے بھجوائی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین حساس تنصیبات کی طرف رخ کرسکتے ہیں۔

سات بجکر پندرہ منٹ: پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی حکومت کی جانب سے چینلز کی یکطرفہ بندش کی مذمت کی گئی ہے۔ پی بی اے کے مطابق پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کی جانب سے منظور شدہ کوڈ آف کنڈکٹ کی پابند ہے۔ معلومات تک رسائی بنیادی انسانی حق ہے جس کی ضمانت آئین پاکستان دیتا ہے۔

پی بی اے ممبران ذمہ داری کے ساتھ دھرنا، دھرنے کے اثرات اور عدالتی احکمات اپنے ناظرین تک پہنچا رہا ہے۔ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت پی بی اے حساس سیکیورٹی آپریشن کو براہ راست نہیں دکھائے گا۔ پی بی اے کا کہنا ہے کہ ایسا مواد نشر نہیں کیا جائے گا جس سے سیکیورٹی اداروں کے خلاف اشتعال پیدا ہو۔ پیمرا یا حکومت کی جانب سے یکطرفہ بندش کے فیصلوں سے گریز کیا جائے۔

چھہ بجکر پچاس منٹ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے وزیر قانون نے رابطہ کیا ہے۔ زاہد حامد نے وزارت سے مستعفی ہونے کی پیش کش کی ہے۔

چھہ بجکر چالیس منٹ: دھرنا قائدین نے نیا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب 1 نہیں بلکہ پوری کابینہ کو مستعفیٰ ہونا پڑے گا۔ تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائدین نے پوری کابینہ سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

چھہ بجکر دس منٹ: وزیر داخلہ احسن اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلی فون کیا۔ نواز شریف نے دھرنے کا معاملہ بگڑنے پر احسن اقبال پر برہمی کا اظہار کیا۔ احسن اقبال نے نواز شریف کو دھرنے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

چھہ بجکر 5 منٹ: مشتعل مظاہرین نے چوہدری نثار کے گھر پر پتھراؤ کیا ہے۔ پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ دھرنے کے دوران ڈیوٹی پر مامور ڈی ایس پی شیخ قاسم کا بازو ٹوٹ گیا۔ راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں 40 زخمی منتقل کیے گئے ہیں۔ فیض آباد آپریشن کے دوران اموات کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک اے ایس آئی اور 2 عام شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 200 سے تجاوز کرگئی ہے۔

چھہ بجے: مسلم لیگ ن نے اسلام آباد دھرنے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے دھرنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے جبکہ مظاہرین اس کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی۔ قرارداد کے متن کے مطابق عقیدہ ختم نبوت پر ہر مسلمان کا مکمل ایمان ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے بھی ختم نبوت کا حلف نامہ اصل شکل میں بحال کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد دھرنا دینا غیر قانونی اور بلاجواز ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے دھرنے والوں کو 2 مرتبہ دھرنا ختم کرنے کے نوٹسسز دئیے گئے۔

متن کے مطابق دھرنا میں 1 بچے کو بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مذہب کے نام پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قرارداد میں سیکیورٹی اداروں کو مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔25

پانچ بجکر پچپن منٹ: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے جاتی امرا میں ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال اور قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں فیض آباد دھرنے کے خلاف جاری آپریشن اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ دونوں رہنما جاتی امرا رائیونڈ پہنچے جہاں سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے استقبال کیا۔ شاہد خاقان عباسی، سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں اہم سیاسی اور قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت جاتی امرا میں مسلم لیگ ن کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیراعلیٰ پنجاب، حمزہ شہباز، وفاقی وزرا بھی شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیض آباد دھرنے کے خلاف جاری آپریشن اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

پانج بجکر 40 منٹ: فیض آباد آپریشن کے خلاف لاہور میں بھی جگہ جگہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ شاہدرہ، داتا دربار، ملتان روڈ۔ بابو صابو، سندر، قصور، فیروز پور روڈ اور مال روڈ پر مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کردیں۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک جام ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ میٹرو بس سروس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی ہے۔

پانچ بجکر 30 منٹ: سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی رہائش گاہ پر مشتعل افراد نے حملہ کیا ہے۔ دوسری جانب شیخوپورہ میں رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف پر مشتعل مظاہرین نے حملہ کرکے ان کا سر پھاڑ دیا ہے۔ مظاہرین جاوید لطیف کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔

پانچ بجکر دس منٹ: جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد انٹر چینج پر 20 روز سے جاری دھرنے کے خلاف انتظامیہ کا آپریشن جاری ہے۔ مری روڈ اور دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں آپریشن کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ جواب میں مظاہرین بھی پر تشدد کاروائیوں پر اتر آئے۔ متعدد گاڑیاں نذر آتش ہوگئیں۔ پرتشدد کارروائیوں میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ پولیس اور ایف سی اہلکاروں سمیت 150 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

پانچ بجے: فیض آباد دھرنے کی حمایت میں کراچی کے 37 مقامات پر مذہبی جماعت کے کارکنان کے دھرنے جاری ہیں۔ لکی اسٹار پر مشتعل مظاہرین پر پولیس کی ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں۔ احتجاج کے باعث پورے شہر میں ٹریفک بری طرح متاثر ہوگیا ہے۔ مظاہرین کی پولیس پر فائرنگ سے ایس ایچ او میمن گوٹھ زخمی ہوگئے جبکہ احتجاج کے باعث ملک بھر میں ٹرینوں اور پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوگیا ہے۔

چار بجکر بیس منٹ: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ جان و مال کا نقصان نہ ہو۔ انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ راستہ کلئیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعت بین الاقوامی سازش کے تحت استعمال ہو رہی ہے۔ دھرنا مظاہرین کے پاس آنسو گیس کے شیل ہیں جو انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کیے۔

دھرنا دینے والے اتنے سادہ نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے احکامات کی بجا آوری سے انکار نہیں کرسکتے۔ کچھ ہفتوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ختم نبوت کا قانون پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔ کوشش ہے کہ کم سے کم نقصان میں جگہ خالی کرائی جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو فون کیا جس میں انہوں نے اسلام آباد دھرنے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کا مشورہ دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ دونوں اطراف کو پر تشدد اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا موجودہ صورتحال میں پر تشدد اقدامات قومی مفاد میں نہیں ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف کی زیر صدارت پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں نیب کیسز سمیت ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

 جاتی امرا میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، شہبازشریف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، پرویز رشید، حمزہ شہباز اور رانا ثنااللہ شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ اس موقع پراسلام آباد آپریشن اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں نیب کیسز اور اس پرآئندہ کی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی، اجلاس کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف ، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت وفاقی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر برجیس طاہر جاتی امرا سے روانہ ہوگئے ہیں ۔

دو بجکر بیس منٹ: مشتعل مظاہرین نے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے گھر کا گیٹ توڑ دیا ہے جبکہ وزیر داخلہ کے گھر سے نکلنے والی بکتر بند گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا گیا، تاہم بکتر بند کی جانب سے کی جانے والی شیلنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے ہیں۔

ایک بجے: پیمرا نے الیکٹرانک میڈیا کو فیض آباد آپریشن کی لائیو کوریج سے روکتے ہوئے اسٹاف کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ ، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام میڈیا ہاؤسز کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر پیمرا کے  میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے فیض آباد دھرنے کی لائیو کوریج بند کی جائے۔بارہ بجکر چالیس منٹ: دھرنا مظاہرین نے جھڑپوں کی کوریج کرنے والی اب تک نیوز کی گاڑی پر ایک بار پھر پتھراؤ کرتے ہوئے گاڑی کی ونڈ اسکرین توڑ دی ہے جبکہ ڈی ایس این جی سسٹم کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔

پولیس کارروائی کے لائیو مناظر

بارہ بجکر بیس منٹ: فیض آباد پر سیکیورٹی فورسز اور دھرنا مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں ، جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔

بارہ بجے: پولیس اور مظاہرین میں ہونے والے جھڑپوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 86 تک جاپہنچی ہے ، زخمیوں میں چودہ ایف سی ، اکتیس پولیس اہلکاروں سمیت اکتالیس مظاہرین شامل ہیں جبکہ مظاہرین نے فیض آباد پر میٹرو بس اسٹیشن پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کرلیا ہے ۔

گیارہ بجکر پینتالیس: فیض آباد دھرنے پر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ آپریشن کے ردعمل پر لاہور میں مذہبی جماعت کے کارکنان نے زبردستی مارکیٹس بند کرانا شروع کر دیں ہیں جبکہ مظاہرین نے ملتان روڑ کو ٹریفک کے لیے بند کرتے ہوئے میٹروبس کے ٹائرکی ہوا نکال دی ہے۔

Posted by Abbtakk on Friday, November 24, 2017

گیارہ بجکر پینتیس منٹ: مشتعل مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے باعث زخمی ہونے والے انسپکٹر جبار دوران علاج دم توڑ گئے ہیں تاہم پولیس اہلکار کی ہلاکت اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔

دوسری جانب ترجمان پمز اسپتال کے مطابق جھڑپوں کے دوران چونسٹھ سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں، زخمیوں میں تیس پولیس اہلکار، دس سویلین اور باقی ایف سی اہلکار شامل ہیں ۔

پمز اسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے اٹھارہ زخمیوں کو مرہم پٹی کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پمز اسپتال کا عملہ دھرنے والی جگہ پر بھی موجود ہیں جو زخمی افراد کو طبی امداد فراہم کر رہا ہے ۔گیارہ بجکر پانچ منٹ: مشتعل مظاہرین نے فیض آباد پل کے اب تک نیوز کی گاڑی پر پتھراؤ کیا ہے اس کے علاوہ پولیس اور دیگر میڈیا کی گاڑیوں پر بھی شدید پتھراؤ کیا گیا ، جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری حفاظتی پوزیشن لینے پر مجبور اور انہوں نے  ایمبولینسز اور واٹر کینن کو بھی فیض آباد سے پیچھے کرلیں گئیں ہیں ۔

دس بجکر پچاس منٹ:  فیض آباد دھرنے پر پولیس آپریشن کے ردعمل پر مظاہرین نے ایم اے جناح اور آئی آئی چندرگڑ روڈ ٹریفک کے لیے بندکردیا ہے ، مظاہرین کی جانب سے اسلام آباد انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی جارہی ہے ۔

دس بجکر چالیس منٹ: دھرنے مظاہرین کی جانب سے شدید پتھراؤ کے باعث پولیس اور ایف سی نے فیض آباد کو کنٹرول کھودیا ہے جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اپنی سابقہ پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں جبکہ مظاہرین فیض آباد کے پل سے نیچے آگئے ہیں اور ان کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر شدید پتھراؤ کیا جارہا ہے ۔

دوسری جانب فیض آباد دھرنے کے شرکا پر پولیس آپریشن کے بعد کراچی سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، نمائش چورنگی کے بعد شارع فیصل اسٹار گیٹ پر بھی مظاہرین جمع ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے مظاہرین کو سروس روڈ پر روک دیا ہے۔دس بجکر تیس منٹ:  پمز اسپتال کے ترجمان کے مطابق اسپتال میں تیس زخمی لائے گئے، جن میں چودہ سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں،دوسری جانب پولی کلینک اور بینظیر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے چھٹی پر موجود پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔

دس بجے: تحریک لیبک یارسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر کے زریعے پولیس کو پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ایف سی اہلکاروں کے لئے پشتو میں اعلان کیا جارہا ہے دوسری جانب پولیس نے واٹر کینن کے ذریعے خادم حیسن رضوی کے کنٹینر پر پانی پھینکا ہے جس پر پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں ہیں ۔

نو بجکر پچاس منٹ:ایم اے جناح روٖڈ پر تحریک لیبک یارسول اللہ کی جانب سے فیض آباد دھرنے پر پولیس آپریشن کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے ، علمائے کرام نے مطالبہ کیا ہے کہ فیض آباد میں جاری آپریشن کو فوری روکا جائے،اگر آپریشن نہیں روکا گیا تو پورا پاکستان جام کردیں گے۔

علماء کا موقف ہے کہ ہمارے ساتھی فیض آباد میں پرامن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرارہے تھے مگر ہم پر لاٹھیاں برسائی گئیں ، شہر قائد میں ہر جگہ دھرنے دینے کے لیے حکمت عملی مرتب کرلی گئی ہے

نو بجکر چالیس منٹ: دھرنے مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے ، جن میں پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں ، تمام زخمیوں کو پمز اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔نو بجکر بیس منٹ:دھرنے شرکا کی جانب سے کئے جانے والے پتھراؤ کے باعث تین شہری بھی زخمی ہوگئے ہیں ، جنہیں طبی امداد کے لئے پمز ہسپتال منتقل  کردیا گیا ہے ۔

نو بجکر دس منٹ: مظاہرین کی جانب سے پولیس و ایف سی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں ، جنہیں طبی امداد کے لئے پمز اسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔

نو بجکر دس منٹ:پولیس اور ایف سی کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے چاروں اطراف کی کارروائی کی جارہی ہے جبکہ بھاگنے والے مظاہرین کا مری روڈ پر گھیراؤ کرلیا گیا ہے۔آٹھ بج کر ستاون منٹ:پولیس اور ایف سی نے دھرنے کی جگہ کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے مظاہرین کی خیمہ بستیاں خالی کرادی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے خیمہ بستیوں میں آگ لگائی جارہی ہے۔

 فیض آباد پر جاری دھرنے کو ختم کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آپریشن میں پولیس، ایف سی اور رینجر کے دستے شامل ہیں۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے شرکاء کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کا محاصرہ مزید سخت کرتے ہوئے رابطہ سڑکیں اور گلیاں بند کرا دیں ہیں۔ دارالحکومت میں سکیورٹی کو بھی ہائی الرٹ کرتے ہوئے شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، دھرنے کے مقام پر ایمبولینسز بھی پہنچا دی گئیں جبکہ آپریشن کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

واضح رہے اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ضلعی انتظامیہ نے دو ہفتے سے جاری دھرنے کے شرکا کو رات بارہ بجے تک فیض آباد خالی کرنے کی آخری وارننگ دی تھی، جبکہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز کی جانب سے اپیل کی گئی تھی کہ دھرنے کے شرکاء ایسی جگہ منتقل ہو جائیں جہاں شہریوں کو تکلیف نہ ہو۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلےکابٹن دبائیں

اس سے قبل فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت کا دھرنا ختم کرنے کیلئے انتظامیہ نے تیاریاں مکمل کرلیں تھیں ، انتظامیہ نے ایک تحریری حکم نامے میں  دھرنے کے شرکاء سے رات 12 بجے تک رضاکارانہ طور پر دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب دھرنے کے گرد و نواح میں بجلی پہلے ہی بند کی جا چکی تھی۔ راولپنڈی پولیس کی جانب سے دھرنے کے شرکاء کیلئے کھانا لے کر آنے والی دو گاڑیاں اور طبی امداد فراہم کرنے والی ریڈ کریسنٹ کی گاڑی تحویل میں لی گئی تھی  گاڑیوں میں موجود چاول کے 800 پیکٹ ضبط کر لیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے معروف روحانی شخصیت پیر سرکار جی کو بھی اسلام آباد پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں پولیس، رینجرز اور ایف سی کے دستوں نے فیض آباد انٹرچینج کا گھیراﺅ کر تے ہوئے اور دھرنے کی طرف جانے والے تمام چھوٹے بڑے راستے خاردار تاریں، کنٹینرز اور بلاک رکھ کر بند کر دیئے تھے۔

جبکہ گزشتہ روز وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا تھا کہ حکومت کسی صورت دھرنے والوں کے ناجائز مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی۔ ہمارے پاس دھرنے والوں کے سامنے سرنڈر کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم سب ختم نبوت کے محافظ ہیں، جبکہ قوم کو تقسیم کرنا ختمِ نبوت قانون کے ساتھ دشمنی ہے اور عوام کو مشتعل کرنے والے اس قانون پر سیاست کر رہے ہیں۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ دھرنے والوں کی جانب سے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے۔ آج ان کے مطالبات مان لیے تو مزید لوگ اسلام آباد میں دھرنے دینا شروع ہو جائیں گے۔ وزیر قانون کا استعفیٰ محض ان کی ضد ہے حالانکہ وزیر قانون زاہد حامد نے اس قانون کو مزید موثر بنایا اور ان کی کوششوں سے ختم نبوت کا قانون مزید مضبوط ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فیض آباد دھرنا 19ویں روز میں داخل

فیض آباد مظاہرین کا گھیراؤ کرلیا گیا

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top