تازہ ترین
بھارت میں پڑھے لکھے افراد بھی نچلی ذات والوں کو کمتر سمجھتے ہیں، جسٹس مرکنڈے

بھارت میں پڑھے لکھے افراد بھی نچلی ذات والوں کو کمتر سمجھتے ہیں، جسٹس مرکنڈے

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈا کاٹجو کہتے ہیں کہ پڑھے لکھے افراد بھی نچلی ذات والوں کو کم تر اور برا سمجھتے ہیں۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود گائے کو ماں کا درجہ دیا جارہا ہے ۔ لگتا یہی ہے کہ بھارتیوں کے دماغ میں گوبھر بھرا ہے۔

کاٹجو نے گائے کو ماں ماننے والوں کو بھی بے وقوف کہہ دیا۔ کہتے ہیں کہ ذرا سوچیں کوئی گائے کسی انسان کی ماں ہوسکتی ہے۔ میں گائے کو عام جانوروں سے زیادہ نہیں مانتا۔ اگر لوگ کہتے ہیں کہ بیف کھانا بری چیز ہے، تو دنیا کھاتی ہے۔ میں نے بھی کھایاہے۔ میں تو کوئی بری چیز نہیں مانتا۔

مرکنڈا کاٹجو کی مزاحیہ باتوں پرطلبہ وطالبات اور صحافیوں کےقہقیں لگتے رہے۔ کاٹجو نے بھارتی وزیراعظم مودی کے بارے میں بھی کہا کہ مودی آئے اور جو نوکریاں تھی وہ بھی چلی گئیں۔

انھوں نےصحافیوں کو کہا کہ سب بک چکے ہیں۔ جوجماعت حکومت میں ہوتی ہےبس اُس کی چمچہ گیری شروع کرتے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس مرکنڈا کاٹجو نے کالج کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے تعلیم یافتہ افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کو اکہتر سال گزر گئے مگر نچلی ذات دلتوں کو آج بھی اچھوت سمجھا جاتاہے۔ دلت ذات میں اگر کوئی شادی کر لے تو غیرت کےنام پراس کی جان لے لی جاتی ہے۔ ننانوے فیصد پروفیسرز یہی مانتے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top