تازہ ترین
نندی پور کیس: بابر اعوان کی بریت سے متعلق فیصلہ محفوظ

نندی پور کیس: بابر اعوان کی بریت سے متعلق فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:(11 فروری 2019) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نندی پور کیس میں بابر اعوان کی بریت کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جسے بیس فروری کو سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نندی پورپاور پراجیکٹ میں تاخیر سے متعلق ریفرنس کی سماعت کی، جہاں نامزد ملزم بابراعوان نے اپنی بریت کی درخواست پر دلائل دیتے کہا کہ منصوبے کی منظوری کے لئے وزارت قانون کو بھیجی گئی دو سمریوں کے وقت وہ وزیرنہیں تھے۔

بابر اعوان کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جو لوگ تاخیر کے ذمہ دارتھے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی بس میرے خلاف ہی جلدی تھی جبکہ سمری کی منظوری وزیر کی بجائے سیکریٹری کا کام ہے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹرذیشان مسعود نے بابر اعوان کی بریت درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیئے کہ اس معاملے پر رحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ موجود ہے،وزارت قانون نے صرف ایک فارم جاری کرنا تھاجو نہیں کیاگیا اور یہ سب بابر اعوان کے دور میں وزارت قانون کی نااہلی کے باعث ہوا ہے۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر کا موقف تھا کہ بابر اعوان کے دور میں وزارت قانون کی جانب سے مسلسل عدم تعاون کا رویہ روا رکھا گیا۔

وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے لکھے گئے تمام خطوط بھی ریکارڈ پر موجود ہیں، صرف ایک شخص کی وجہ سے ریاست کو کروڑوں کا نقصان ہو جائے اور وہ کہے میں نے کچھ نہیں کیا؟بابر اعوان کی درخواست بریت قابل سماعت ہی نہیں ہے۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد بابر اعوان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوط کرلیا جو بیس فروری کو سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں نیب راولپنڈی نے نندی پورپاور منصوبے میں تاخیر کے ذمہ داروں کیخلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا،ریفرنس وزارت پانی وبجلی کی جانب سے جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔

Comments are closed.

Scroll To Top