تازہ ترین
انسانی حقوق کا عالمی دن اور بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا

انسانی حقوق کا عالمی دن اور بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا

اسلام آباد: (10 دسمبر 2018) جہاں آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے وہیں دنیا کے کئی ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہایی ابتر ہے۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے کا شکار مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی بھارتی افواج کے مظالم کی داستان نہ صرف دل دہلا دیتی ہے بلکہ اقوام عالم کے بناے گیے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔

جمہوریت کا سب سے بڑا دعویدار اور انسانی حقوق کامصنوعی راگ الاپنے والا بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظالم کی ایسی داستانیں رقم کر رہا ہے کہ انسانیت شرما جائے۔ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی تمام حدوں کو پار کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد عورت کوئی بھی بھارتی جارحیت سے محفوظ نہیں۔بھارتی وزیراعظم مودی کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے اقوام عالم میں بھارت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رواں سال اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جاری اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے باسی گزشتہ7 دہائیوں سے بدترین تشدد کا شکارہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی تجویز بھی دی ہے۔رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں بھاری فورسز کی جانب سے پیلیٹ گن کے استعمال سے جولائی 2016 سے اب تک درجنوں افراد شہید جبکہ ہزاروں نابینا ہوئے ہیں۔ جولائی 2016 سے مارچ2018 تک وادی میں 145 معصوم کشمیری شہید ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 28 برسوں سے آرمڈ فورسزخصوصی ایکٹ نافذ ہے۔ اس قانون کے باعث اب تک کسی ایک بھی بھارتی فوجی کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کامقدمہ درج نہیں ہوسکا۔اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ کشمیر کے متنازع خطے سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرمعنی خیز مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سرینگر: بھارتی فوج کے ظلم اور کشمیری نوجوانوں کی شہادت کیخلاف مکمل ہڑتال

سرینگر: بھارتی فوج کا جعلی آپریشن، تین کشمیری شہید متعدد زخمی

Comments are closed.

Scroll To Top