تازہ ترین
بھارت: مسلم کش فسادات 2002 میں مقامی حکومت اور پولیس ملوث تھی

بھارت: مسلم کش فسادات 2002 میں مقامی حکومت اور پولیس ملوث تھی

نئی دہلی: (11 اکتوبر 2018) بھارت میں دو ہزار دو کو ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام میں ریاستی حکومت اور مقامی پولیس ملوث نکلی ۔ فسادات پر قابو پانے والے سابق بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اپنی کتاب میں تہلکہ خیز انکشافات کرڈالے۔

دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوری حکومت پھر بے نقاب ہو گئی۔ سابق بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کی کتاب میں بڑے بڑے انکشافات کیئے گئے ہیں۔ دو ہزار دو میں بھارتی حکومت نے مسلمانوں کا قتل عام کرایا۔گجرات میں قتل عام ہوتا رہا بھارتی فوج ایئرپورٹ پر تین دن انتظار کرتی رہی۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ گجرات مودی نے فوج کو گاڑیاں تک نہ دیں۔ انتہا پسندانہ سوچ کے مالک مودی کی سرپرستی میں مقامی پولیس نے حلمہ آواروں کا ساتھ دیا۔جنرل ریٹائرڈ ضمیر الدین شاہ اس وقت اسٹرائیک کور ڈویژن میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر تعینات تھے جنہوں نے بعد میں فسادات پر قابو پایا۔ دی سرکاری مسلمان نامی کتاب میں سابق جنرل نے لکھا ہے کہ ہوائی اڈے پر ٹرانسپورٹ کا انتظام نہ کیا جانا انتظامی غلطی تھی۔جنرل شاہ کے مطابق وہ خود نریندر مودی کی رہائشگاہ گئے۔ اس وقت کے وزیردفاع جارج فرنانڈیز سے ملاقات کی اور ضرورت کی چیزوں سے آگاہ کیا مگر پوری رات اور پورا دن انتظار میں گزرگیا۔ فوج کو احمد آباد پہنچتے ہی گاڑیاں مل جاتیں تو فسادات کو جلدی روکا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بھارت میں گائے اسمگلنگ کے الزام میں ایک اور مسلمان کو قتل کر دیا گیا

بھارت میں گائے اسمگلنگ کے الزام میں ایک اور مسلمان کو قتل کر دیا گیا

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top