تازہ ترین
قومی یکجہتی اور ہماری ذمے داری

قومی یکجہتی اور ہماری ذمے داری

بھارت کی فضاﺅں سے آگ اور بارود سے بھرے ہوئے بادل ابھی چھٹے نہیں ہیں۔ نئی دہلی سے نریندر مودی کی دھمکیاں اور پاکستان کے اندر گھس کر پاک فضائیہ کے شاہین صفت ہوا بازوں کے زخموں کی ٹیسں بھارت کے جنگجو سیاستدان کو امن و چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی ہیں. دوسری طرف پاکستان میں بھارت کے جارحانہ فضائی حملے کے بعد قومی یکجہتی کا جو مظاہرہ دیکھ کر دنیا حیران ہوگئی وہ ہمارے چند ناعاقبت اندیش سیاسی رہنماﺅں کے ہاتھوں جلد ہی پارہ پارہ ہوگئی۔

پاکستانی ایک سے زائد بار قومی سانحات اور ملکی سالمیت کے کیخلاف ہونے والی اندرونی و بیرونی سازشوں کے خلاف از خود سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے. پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوکر دہشت گردوں کے فرضی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تو قوم یک زباں ایک لمحہ ضائع کیئے بلا تفریق عقیدہ سیاسی نظریہ عمران خان کی حکومت کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی اس کے نتیجے میں بھارت کو ہماری بہادر مسلح افواج فضائیہ اور بحریہ کے ہاتھوں تاریخی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاست دان اور حکومت کے بعض ارکان زیادہ عرصے تک اپنی زباں درازی پر قابو نہ رکھ سکے جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کی فضا یکدم سے مکدر ہوگئی۔

پلوامہ واقعے کی وجہ سے موجودہ حکومت کا منی بجٹ پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہوسکا اس آئینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیئے پارلیمنٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ جن کا شمار تحریک انصاف کے سنجیدہ اور باوقار رہنماﺅں میں کیا جاتاہے۔ منی بجٹ پر اپوزیشن رہنماﺅں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ سکے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاستدان جب اپنے مخالف کی پگڑی اچھالنے میں مصروف ہوتے ہیں اور گھن گرج کے ساتھ برس رہے ہوتے ہیں تو وہ اپنے دامن پر لگے ہوئے داغوں کو بھول جاتے ہیں۔

اسد عمر نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کو ہدف بناتے ہوئے ان کے نام کے ساتھ خاندانی نسبت کو بھی نشانے پر لے لیا۔ اسد عمر جیسے زیرک اور باشعور شخص سے اس قسم کی حرکت کی توقع نہیں تھی لیکن برا ہو سیاست اور اندھی عقیدت کا جس کے نتیجے میں جو ایوان اسد عمر کی تقریر سے قبل قومی یکجہتی کا عملی نمونہ پیش کررہی تھی ایک بار پھر تقسیم ہوگئی۔ ہمارا ازلی دشمن پاک فضائیہ کے ہاتھوں عبرت ناک مار کھانے کے باوجود ابھی تک ناپاک عزائم کے ساتھ سرحدوں پر کھڑا ہے۔ اسد عمر کو بلاول بھٹو کی ذات خاندانی نسبت سے خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں ایک بار پھر 1971 والی صورتحال نہ پیدا ہوجائے جب بھارت کے فوجی طیارے پاکستان میں موجود مکتی باہنی کے ہنگامی افسران کی مدد سے کراچی میں آزادانہ بمباری کرکے واپس چلے جاتے تھے۔ بلاول کی بہن بختاور بھٹو نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے 1970 کے بحران میں جنرل یحییٰ کے دوست جنرل عمر کا بھی ذکر کیا ہے جو سقوط ڈھاکہ میں جنرل یحییٰ کے ساتھ برابر کے ذمے دار قرار دیئے جاتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسد عمر، فیاض الحسن، فواد چودھری اور مراد سعید کی طرح جھوٹ اور سچ کی تمیز کھوچکے ہیں۔ اگر بلاول کا انگریزی میں تقریر کرنا انتہائی غلط تھا تو پھر شاہ محمود قریشی کی انگریزی تقریر پر ان کے لب کیوں خاموش رہے۔ ابھی اسد عمر کی تقریر کی دھول بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم اپنے پہلے دورہ سندھ کے دوران خطاب کرتے ہوئے نہ صرف اسد عمر کی باتوں کو دہرایا بلکہ وہ بھی بلاول کی انگریزی کا مذاق اڑاتے نظر آئے۔

عمران خان کی تقریر سے یہ بات اب یقین میں بدل گئی ہے کہ وہ کنٹینر پر استعمال ہونے والے بیان و زبان کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم نے ماضی میں صوبائیت پر مبنی بلند ہونے والے نعروں کا بھی بے محل ذکر کرکے لسانی تعصب پر یقین رکھنے والے عناصر کے تن مردہ میں بھی جان ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ بے شک نواز شریف، آصف علی زرداری اور ان کے قریبی ساتھیوں کے دامن مبینہ کرپشن خاص طور پر مالی آلودگیوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن ابھی عدالتوں نے اس کا فیصلہ کرنا ہے۔ خاص طور پر آصف علی زرداری کے اس کردار کو پاکستان کے عوام اور تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی جو انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے نتیجے میں عوام کے غیض و غضب کی صورت میں مستقل عوام کے پر تشدد جذبات کو ٹھنڈا کرتے ہوئے پاکستان کھپے کا نعرہ بلند کرکے ادا کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب آج وفاقی حکومت میں عمران خان کے زیر سایہ ایک درجن سے زائد وزیر و مشیر جنرل مشرف کی پناہ میں دبکے بیٹھے تھے ان میں اتنی جرات نہ تھی کہ وہ عوام میں آکر ان کو صبر اور پرامن رہنے کی لفظی اپیل بھی کرسکیں۔

تحریک انصاف کی حکومت اپنی آئینی مدت کو پورا کرے تاکہ عوام ان کی اور ماضی میں برسراقتدار رہنے والی حکمران جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اپنی قسمت کے رکھوالوں کا انتخاب کرسکیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اورگیس و بجلی کی قیمتوں میں اضافہ تعلیمی و طبی سہولتوں کا فقدان اس کا علاج ٹاسک فورس کا قیام نہیں بلکہ عملی کارکردگی ہے جو بدقسمتی سے دور دور تک نظر نہیں آرہی۔

کالم کے آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اردو بلاشبہ ملک کی قومی زبان ہے، ہمارے حکمرانوں اور اپوزیشن رہنماﺅں کی اولادوں کو بھی اردو اور پاکستان کی قومی معاشرت سے بخوبی آگاہی ہونی چاہیے۔

Comments are closed.

Scroll To Top