تازہ ترین
ایون فیلڈ ریفرنس :سزا معطلی کے خلاف نیب پراسیکیوٹر کے دلائل جاری

ایون فیلڈ ریفرنس :سزا معطلی کے خلاف نیب پراسیکیوٹر کے دلائل جاری

اسلام آباد:(19 ستمبر 2018) اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے سزا معطلی کے خلاف دائر درخواست پر حتمی سماعت شروع ہوگئی ہے، ہائی کورٹ آج کیس میں سزا معطلی سے متعلق فیصلہ سنائے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کپٹن ر صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت شروع ہوگئی، سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ پر مشتمل جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کر رہے ہیں۔

نیب کے پراسیکیوٹر اکرم قریشی کے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا مجرمان کا دعویٰ ہے 1978میں گلف اسٹیل کے75فیصد شیئر فروخت کیے، پھر مجرمان نے دعویٰ کیا 80 میں 25 فیصد شیئر 12ملین درہم میں فروخت کیے، مجرمان کے مطابق لندن فلیٹس کی رقم کی بنیاد یہی12ملین درہم ہیں، 12 ملین درہم کی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور شیئرز فروخت کے معاہدے کی یواےای حکام نے تصدیق نہیں کی۔پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت میں ہم نےیہ دستاویزات پیش کیں، جس پر جسٹس میاں گل حسن نے کہا قریشی صاحب نیب اورجےآئی ٹی میں فرق ہے، نیب جےآئی ٹی نہیں الگ ادارہ ہے تو پراسیکیوٹر نے کہا نیب کو اختیار ہے تفتیش میں کسی بھی ادارے سے معاونت لے۔

جس پر عدالت نے کہا گلف اسٹیل سےمتعلق دستاویزات درخواست گزاروں نے پیش کی؟نیب پراسیکیوٹر کا جواب میں کہنا تھا یہ مؤقف سپریم کورٹ میں ملزمان کی طرف سے لیا گیا، مریم نواز کی طرف سے متفرق درخواست کے ذریعےمؤقف لیاگیا، مریم نواز نے سی ایم اے نمبر7531کے ذریعے دستاویزات دیں، دستاویزات میں قطری خاندان سے کاروباری معاملات کا ذکر کیا گیا۔نیب پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا ساری کی ساری کہانی مریم کےگردہی گھوم رہی ہے، مریم نواز نے انٹرویو میں کہا پاکستان یا بیرون ملک جائیداد نہیں، دستاویزات میں مریم نواز کو نیلسن اور نیسکول کی بینفشل آنرکہا گیا، ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے بیفشل آنر ہونے کو چھپانے کی کوشش کی گئی ، مریم نواز نے خود کہا کہ وہ والد کے زیرکفالت ہیں۔

دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی اتنی گہری تحقیقات کی بنیاد پر نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے کوئی تعلق نہیں بن رہا، پھر ہم کس طرح فرض کر لیں کہ یہ پراپرٹیز نواز شریف کی ہیں، دور دور تک نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے کوئی تعلق نظر نہیں آ رہا ہے۔

 سماعت کے موقع پر شہباز شریف، راجا ظفر الحق ، جاوید ہاشمی، پرویز رشید، مشاہد اللہ سمیت لیگی کارکنان کی بڑی تعداد احتساب عدالت کے باہر موجود ہے۔

گذشتہ روز سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ مفروضہ کہ جائیداد بچوں کے قبضے میں ہے لیکن ملکیت نواز شریف کی ہے، بظاہر احتساب عدالت کا فیصلہ مفروضے کی بنیاد پر ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جب پانامہ کا 28 جولائی کا فیصلہ آیا تو وہ تمام ججز پر بائینڈنگ تھا اور پہلا فیصلہ بائنڈنگ نہیں قرار دیا جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا پانامہ پر دوسرا فیصلہ تسلسل ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پانامہ کا 28 جولائی کافیصلہ تمام ججز نے دستخط کیے۔ جسٹس میاں گل حسن نے کہا پہلے فیصلے میں نااہلی نہیں ہوئی اور وہ فیصلہ منارٹی ججز کا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ معمولی کیس نہیں، پیسے لیے اور جیب میں ڈالنے سے متعلق کیس نہیں بلکہ لاتعداد کمپنیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔اکرم قریشی نے کہا کہ اس کیس کو اتنے مختصر وقت میں تفتیش کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اس مرحلے پر عدالت کا کوئی بھی تبصرہ مناسب نہیں ہوگا جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بہت اچھی بات کہی آپ نے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ بچے والدین کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں،لندن اپارٹمنٹس کا قبضہ بچوں کے پاس تھا، باپ بچوں کا فطری سرپرست ہے جس کے قبضے میں جائیداد ہے ملکیت کا بار ثبوت اس پرہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا والد اور سرپرست ہونے کی وجہ سے بار ثبوت ان پر ہے اور یہ کہتے ہیں حسن اور حسین ہی بتا سکتے ہیں، اخراجات ریکارڈر پر نہیں ہیں جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کہتے ہیں کہ آمدن سے متعلق چارٹ واجد ضیاء نے پیش نہیں کیا، تفتیشی افسر نے بھی کہا تھا معلوم نہیں یہ چارٹ کس نے تیار کیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اب مفروضے پر فوجداری قانون میں سزا سنا دیں، یہ مفروضہ کہ جائیداد بچوں کے قبضے میں ہے لیکن ملکیت نواز شریف کی ہے، بظاہر احتساب عدالت کا فیصلہ مفروضے کی بنیاد پر ہے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میری اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے، دو گھنٹے سے زائد کھڑا نہیں ہوسکتا، سماعت کل تک ملتوی کردیں، کل عدالت کی معاونت کردوں گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ایک گھنٹے میں دلائل دے دیں گے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا میں کل صرف 30 منٹ لوں گا جس پر جسٹس گل حسن نے کہا ہم آپ کو بیٹھنے کے لیے کرسی دے دیتے ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کرسی پر بیٹھے رہنے سے پاؤں پھر بھی وزن پڑتا ہے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہم پہلے ہی وقت ضائع کر چکے ہیں تاہم بیماری پر اعتراض نہیں کرسکتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ انتہائی اہم کیس ہے، آج ختم کردیتے تو اچھا ہوتا، اس کیس کے لیے ہم پورا دن لیتے ہیں۔

جسٹس گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہر چیز کی حد ہوتی ہے، آپ نے تحریری دلائل دے دیے ہیں، کل اگر آپ نہ بھی آئے تو ہم ان دلائل کی بنیاد پر فیصلہ سنادیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا کہ آپ نے بہت اچھے دلائل دے دیے ہیں، اگر آپ کل نہ بھی ہوئے تو جہانزیب بھروانہ دلائل دیں گے اور کل دلائل مکمل نہ ہوئے تو پھر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف اپیل پر فیصلہ موخر

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top