تازہ ترین
ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا معطل

ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا معطل

اسلام آباد: (19 ستمبر 2018 )اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزائیں معطل کردی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبا د ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ دیا، اپنے مختصر فیصلے میں تینوں شخصیات کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔

اس سے قبل ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کی جانب سے سزا معطلی کے خلاف اپیل پر نیب پراسیکیوٹر نے اپنے حتمی دلائل دئیے تھے، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف اور دیگر رہنماؤں کی سزا معطل ہونے کے فیصلے کے بعد لیگی کارکنان نے احتساب عدالت کے باہر سجدہ کئے اور خدا کا شکر ادا کیا، جبکہ فیصلے کے وقت شہباز شریف، راجا ظفر الحق ، جاوید ہاشمی، پرویز رشید، مشاہد اللہ سمیت کئی اہم لیگی رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

نیب پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل اور بینچ کے ریمارکس

فیصلے سے قبل نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیس میں مخصوص حالات یہ ہیں کہ شریف خاندان نے گلف اسٹیل ملز انیس سو اٹہتر میں فروخت کی، مجرمان کے مطابق طارق شفیع اور عبداللہ قائد آہلی کے درمیان فروخت کا معاہدہ ہوا اور یہ موقف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں اپنایا گیا تھا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا مجرمان کہتے ہیں کہ انیس سو اسی میں مزید پچیس فیصد شیئرز فروخت ہوئے اور فروخت سے حاصل بارہ ملین درہم قطری شہزادے کے پاس سرمایہ کاری میں استعمال ہوئے اور اسی سے ایون فیلڈ پراپرٹیز خریدی،مجرمان کے مطابق لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کی بنیاد یہی 12 ملین درہم ہیں اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فروخت کا معاہدہ جعلی ہے اور ایسا کوئی ریکارڈ دبئی کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں ہے۔حمتی دلائل میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دبئی کی حکومت نے بتایا 25 فیصد شیئرز کی فروخت کا معاہدہ ان کے پاس نہیں ہے،جبکہ مریم نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست کے ذریعے ایک موقف لیا گیا اور انہوں نے سپریم کورٹ میں سی ایم اے نمبر 7531کے ذریعے دستاویزات جمع کرائیں جس میں قطری خاندان سے کاروباری معاملات کا ذکر کیا گیا۔نیب پراسیکیوٹر نے اس پر کہا کہ جے آئی ٹی میں مجرموں کا یہ موقف تھا جس پر جسٹس گل حسن نے کہا آپ جے آئی ٹی نہیں ہیں، جے آئی ٹی اور نیب میں بہت فرق ہے۔ نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا مریم نواز کی ملکیت چھپانے کے لیے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنائی گئی جس پر جسٹس گل حسن نے سوال کیا آپ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے مریم کے نام پر فلیٹس بنائے جس پر انہوں نے جواب دیا جی، نواز شریف فلیٹس کے اصل مالک تھے۔جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا تو پھر نواز شریف کی ملکیت کا کوئی ثبوت بتا دیں، ہم کیسے فرض کریں، آپ کی اتنی بڑی تفتیش کے بعد نواز شریف کا فلیٹس سے تعلق نہیں بن پا رہا، نواز شریف تو کہیں بھی نظر نہیں آرہا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا آپ تفتیش سے نواز شریف کا تعلق نہیں جوڑ سکے تو ہم فرض کیسے کرلیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دوہزار بارہ تک مریم نواز ان فلیٹس کی بینفشل اونر تھی اور بعد میں ایک جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنا کر ٹرسٹی بنیں، اس ٹرسٹ ڈیڈ میں کیلیبری فونٹ کا استعمال ہوا جو ان دنوں دستیاب ہی نہیں تھا اور ٹرسٹ ڈیڈ میں تاریخیں بھی بدلی گئیں،اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا فرض کریں مریم نے جعلی دستاویزات پیش کیں، یہ بتائیں ذرائع سے زیادہ آمدن پر سزا کیسے ہوسکتی ہے۔اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کبھی ادھر سے بھی کوئی سوال پوچھ لیں، سب سوالات مجھ سے ہی پوچھنے ہیں جس پر عدالت نے کہا دلائل آپ کے ہیں اور سوال بھی آپ سے ہوگا،عدالت نے پوچھا 1993 میں مریم نواز کی عمر کیا تھا جس پر اکرم قریشی نے بتایا اس وقت مریم نواز 20 سال کی تھیں۔

عدالت نے سوال کیا آپ کا موقف ہے کہ 1993 میں نواز شریف نے لندن فلیٹس خریدے تو مریم نواز پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس کیسے بن گیا، آپ کا کیس ہے کہ مالک مریم نواز نہیں بلکہ نواز شریف ہیں،جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی میں یہی کہہ رہا ہوں مالک مریم نواز نہیں بلکہ نواز شریف ہیں، یہ میں نہیں کہتا یہ قانون کہتا ہے کہ آپ فرض کریں۔عدالت نے سوال کیا آپ یہ کہتے ہیں ان بچوں کے دادا کا وہاں کوئی کاروبار نہیں تھا جس پر اکرم قریشی نے کہا یہ ان کا موقف ہے کہ طارق شفیع ان کے دادا کا کاروبار سنبھال رہے تھے،جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کوئی ایسا ریکارڈر دیں جو نواز شریف کا کسی بھی حثیت میں کردار ثابت کرتا ہو، کیا صرف مفروضے کی بنیاد پر سزا ہوسکتی ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا قانون شہادت تو ایسا کرنے کا کہتا ہے، میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی بتایا ہے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا وہ منارٹی ججمنٹ ہے۔اکرم قریشی نے کہا قانون شہادت کے اصول عام مقدمات میں مختلف جبکہ اس کیس میں مختلف ہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا سپریم کورٹ کے طے کردہ اصول کے مطابق نیب کو تفصیلی تفتیش کرنی تھی، ان کے معلوم ذرائع آمدن کہاں پر تفتیش کیے، وہ دستاویزات کون سی ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا سپریم کورٹ کا لاء یہاں قابل عمل نہیں ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کا لاء قابل عمل نہیں ہے، معلوم ذرائع آمدن کا چارٹ کہاں پر ہے، کیا میں یہ لکھ دوں کہ اس کیس میں سپریم کورٹ لاء کا اطلاق نہیں ہوتا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا جی لکھ دیں اس کیس میں سپریم کورٹ لاء کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا پیش کردہ ذرائع آمدن کا چارٹ غیر متعلقہ ہے، نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا، جی ہاں پیش کردہ ذرائع آمدن کا چارٹ غیر متعلقہ ہے۔آپ کہتے ہیں جائیدادیں بیرون ملک ہیں، اس لیے بار ثبوت نیب پر نہیں آتا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا جی بالکل ایسا ہی ہے، بار ثبوت نیب پر نہیں آتا۔

فاضل جج نے سوال کیا کہ اس طرح کی ایکسرسائز کسی عوامی عہدیدار کے کیس میں کی گئی؟ ہم صدور اور وزراء اعظم سے متعلق پوچھ رہے ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا حاکم علی زرداری اور احمد ریاض شیخ کے مقدمات میں ایسا ہی کیا گیا اور دونوں کے مقدمات میں بار ثبوت ملزمان پر تھا۔

واضح رہے 6 جولائی کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو دس مریم نواز کو سات اور کیپٹن ر صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی تھی،ایون فیلڈ میں سزا کے بعد 13 جولائی کو نوازشریف اور مریم نواز کو لندن سے لاہورپہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا ، جس کے بعد دونوں کو خصوصی طیارے پر نیو اسلام آباد ایئر پورٹ لایا گیا، جہاں سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

جولائی 16 کو نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے اپنے وکلا کے ذریعے سزا معطلی کے لیے اسلام اباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی

اسحاق ڈار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی چیئرمین شپ سے بھی فارغ

 

 

Comments are closed.

Scroll To Top