تازہ ترین
لاپتہ بچیوں کی عدم بازیابی پر جسٹس شوکت کا اظہار برہمی

لاپتہ بچیوں کی عدم بازیابی پر جسٹس شوکت کا اظہار برہمی

اسلام آباد: (03 اکتوبر،2018) جسٹس شوکت صدیقی نے لاپتہ دو بچیوں کا سراغ نہ ملنے پراظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو بے بس نہ سمجھا جائے،مجھے لالی پاپ نہیں کام چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو سال سے لاپتہ دو بچیوں کی بازیابی کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے سماعت کی، اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اےبشیر میمن ،سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان، آئی جی پولیس اسلام اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت جسٹس شوکت صدیقی نے کیس پر پیش رفت سے متعلق استفسار کیا کہ تو اسلام آباد پولیس نے اپنی رپورٹ جمع کرائی، رپورٹ کے مطابق دونوں بچیوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی بچیوں کا سراغ نہ ملنے پر آبدیدہ ہو گئے اور ریمارکس دئیے کہ اگر کسی کا کتابھی گم جائے تو اسے برآمد کیا جاتا ہے،یہ تو انسان کی اولاد ہیں،جو دوسال سے لاپتہ ہیں۔جسٹس صدیقی نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے مجھے مایوس کیاہے،مجھے اس کیس میں لالی پاپ کی بجائے پیشرفت چاہئے۔جسٹس صدیقی نے ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اللہ کے ہاں بھی جواب دینا ہے بتائیں خدا ناخواستہ آپ کی بچیاں لاپتہ ہوں تو آپ رات کو سو پائیں گے،بعد ازاں عدالت نے کیس میں پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئےسماعت انیس اکتوبرتک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کےلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top