تازہ ترین
کلبھوشن کیس: عالمی عدالت انصاف میں آج تیسرے دن بھی سماعت ہوگی

کلبھوشن کیس: عالمی عدالت انصاف میں آج تیسرے دن بھی سماعت ہوگی

دی ہیگ:(20 فروری 2019) عالمی عدالت انصاف میں آج بھارتی جاسوس کلبھوشن کیس کی سماعت آج تیسرے روز بھی جاری رہے گی، جہاں بھارت پاکستان کی جانب سے دئیے گئے دلائل پر جوابی دلائل دے گا۔

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دی ہیگ میں موجود عالمی عدالت انصاف میں بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن یادیو کے کیس کی تیسرے روز کی سماعت آج پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے شروع ہوگی جو ساڑھے آٹھ بجے تک جاری رہے گی،جہاں بھارتی وکیل پاکستانی وکیل خاور قریشی کے دوسرے روز دیئے جانے والے دلائل پر جواب دیں گے۔

گذشتہ روز پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ پاکستان اپنا کیس پیش کرنے کے لیے مکمل پرعزم اور تیار ہے،انہوں نے اپنے دلائل کے آغاز میں کہا کہ بھارت نے ہمیشہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے، اس نے پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کرائی اور جاسوس بھیجے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ہونے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہا تھا اور اسے بلوچستان، گوادر، کراچی میں دہشت گردی کرانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ بھارت پاکستان دشمن ملیشیا کی فنڈنگ اور تربیت کر رہا ہے، پاکستان کے خلاف بھارت کی منصوبہ بندی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
انور منصور نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں نے پاکستان میں سینکڑوں افراد کو نشانہ بنایا جب کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آرمی پبلک سکول حملے میں 140 معصوم بچوں کو شہید کیا گیا جب کہ آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں بھارت براہ راست ملوث تھا۔ پاکستان کو اب تک دہشت گردی سے 130 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

پاکستانی وکیل رانا خاور قریشی نے کہا کہ بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا بے بنیاد الزام لگایا جب کہ بھارت نے گزشتہ روز کئی سوالوں کے جواب ہی نہیں دیے۔ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت نے ہمیشہ پروپیگنڈا کیا۔

انہوں ںے کہا کہ ویانا کنویشن کا اطلاق جاسوس کے معاملے پر نہیں ہوتا ہے تاہم ویانا کنویشن کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کا آپشن موجود ہے، اس موقع پر عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے خلاف حقائق اور عائد الزامات سے متعلق شواہد پیش کیے گئے تھے۔

خاور قریشی نے اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی شہریت کا ہی اعتراف نہیں کیا تو قونصلر رسائی کا مطالبہ کیسے کرسکتا ہے؟بھارت نےعدالت کو نہیں بتایا کہ وہ حسین مبارک پٹیل ہے یا کلبھوشن یادیو ہے،جب ایک شخص کی شناخت مصدقہ ہی نہیں تو قونصلر رسائی کیسی؟

انہوں نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ کلبھوشن کو ایران سے اغوا کیا گیا تو اب تک ایران سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟پاکستان نے اسے ایران سے نہیں بلوچستان سے گرفتار کیا ہے، ہمپٹی ڈمپٹی کی طرح بھارت بھی جھوٹ کی کمزور دیوار پر بیٹھا ہے۔

خاور قریشی کا مزید کہنا تھا کہ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ’’را‘‘نے بلوچستان کو غیرمستحکم کرنا شروع کیا،خاور قریشی کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کی ایران سے گرفتاری کے بعد بھارت نے کیا تحقیقات کیں؟بھارتی جاسوس کو ایران سے پاکستان اغوا کر کے لانے کے الزام کا کیا ثبوت ہے؟ ایران سے پاکستان کے9 گھنٹے کے سفر کا بھارت کے پاس کیا ثبوت ہے؟

گزشتہ روز ہی عالمی عدالت نے پاکستان کی درخواست پر ایڈہاک جج تبدیل کرنے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سنایا جائے گا،اس سے قبل پاکستانی ایڈہاک جج تصدق جیلانی بیماری کے سبب آج کی سماعت میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔

Comments are closed.

Scroll To Top